سپریم کورٹ میں ریزرو نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے وکیل فیصل صدیقی نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں آئینی تشریح درکار ہے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ کیا وہ اس کیس میں آئینی تشریح کی ضرورت کو مانتے ہیں، جس پر انہوں نے ”ہاں“ میں جواب دیا۔
یہ سماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظرثانی درخواستوں پر پیر کے روز ہوئی۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے تین درخواستیں دائر کی ہیں، تاہم بینچ کو آگاہ کیا گیا کہ یہ درخواستیں ابھی عدالت کو موصول نہیں ہوئیں۔ بعد ازاں حامد خان نے بتایا کہ رجسٹرار آفس نے ان کی درخواستوں کو نہ قبول کیا اور نہ ہی واپس کیا، بلکہ انہیں ”اسکینڈلوس“ قرار دیا گیا۔
فیصل صدیقی نے بینچ کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جس بینچ نے اصل فیصلہ دیا، نظرثانی کی سماعت بھی اسی تعداد کے ججز پر مشتمل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظرثانی کے لیے 13 رکنی بینچ ضروری ہے کیونکہ اصل فیصلہ بھی 13 رکنی بینچ نے دیا تھا۔
جسٹس امین نے بتایا کہ دو ججز کی خواہش پر بینچ دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے اور ان کا اختلافی نوٹ فیصلے کا حصہ بنایا جائے گا۔ جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ اگر وہ ججز واپس بینچ میں شامل ہوں تو کیا وہ اپنے پچھلے فیصلے کا جائزہ لیں گے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سوال یہ ہے کہ آیا سپریم کورٹ رولز آئینی بینچ پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 191A آئینی بینچ کی تشکیل کو ترجیح دیتا ہے۔
سماعت آج (منگل) تک ملتوی کر دی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.