BR100 Increased By (0.79%)
BR30 Increased By (0.95%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.49%)
BAFL 58.56 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
BIPL 25.17 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
BOP 34.22 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 21.10 Increased By ▲ 0.26 (1.25%)
DGKC 195.38 Increased By ▲ 2.41 (1.25%)
FABL 89.84 Increased By ▲ 0.05 (0.06%)
FCCL 53.45 Increased By ▲ 0.62 (1.17%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.10 (0.56%)
GGL 19.09 Increased By ▲ 0.12 (0.63%)
HBL 287.25 Increased By ▲ 1.75 (0.61%)
HUBC 215.38 Increased By ▲ 1.00 (0.47%)
HUMNL 10.89 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
LOTCHEM 28.10 Increased By ▲ 0.21 (0.75%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 322.40 Increased By ▲ 2.44 (0.76%)
PAEL 39.70 Increased By ▲ 0.28 (0.71%)
PIBTL 16.84 Increased By ▲ 0.17 (1.02%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 229.88 Increased By ▲ 1.70 (0.75%)
PRL 34.85 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 99.40 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
SSGC 26.84 Increased By ▲ 0.24 (0.9%)
TELE 8.54 Increased By ▲ 0.26 (3.14%)
TPLP 8.45 Increased By ▲ 0.23 (2.8%)
TRG 70.19 Increased By ▲ 0.48 (0.69%)
UNITY 11.80 Increased By ▲ 0.13 (1.11%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

سپریم کورٹ میں ریزرو نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے وکیل فیصل صدیقی نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں آئینی تشریح درکار ہے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ کیا وہ اس کیس میں آئینی تشریح کی ضرورت کو مانتے ہیں، جس پر انہوں نے ”ہاں“ میں جواب دیا۔

یہ سماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظرثانی درخواستوں پر پیر کے روز ہوئی۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے تین درخواستیں دائر کی ہیں، تاہم بینچ کو آگاہ کیا گیا کہ یہ درخواستیں ابھی عدالت کو موصول نہیں ہوئیں۔ بعد ازاں حامد خان نے بتایا کہ رجسٹرار آفس نے ان کی درخواستوں کو نہ قبول کیا اور نہ ہی واپس کیا، بلکہ انہیں ”اسکینڈلوس“ قرار دیا گیا۔

فیصل صدیقی نے بینچ کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جس بینچ نے اصل فیصلہ دیا، نظرثانی کی سماعت بھی اسی تعداد کے ججز پر مشتمل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظرثانی کے لیے 13 رکنی بینچ ضروری ہے کیونکہ اصل فیصلہ بھی 13 رکنی بینچ نے دیا تھا۔

جسٹس امین نے بتایا کہ دو ججز کی خواہش پر بینچ دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے اور ان کا اختلافی نوٹ فیصلے کا حصہ بنایا جائے گا۔ جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ اگر وہ ججز واپس بینچ میں شامل ہوں تو کیا وہ اپنے پچھلے فیصلے کا جائزہ لیں گے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سوال یہ ہے کہ آیا سپریم کورٹ رولز آئینی بینچ پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 191A آئینی بینچ کی تشکیل کو ترجیح دیتا ہے۔

سماعت آج (منگل) تک ملتوی کر دی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.