BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Increased By (0.04%)
KSE100 Increased By (0.11%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.75 Increased By ▲ 0.28 (0.5%)
BIPL 24.86 Increased By ▲ 0.23 (0.93%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.89 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.88 Increased By ▲ 0.39 (2.23%)
DGKC 187.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
FABL 93.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 51.67 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 14.50 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.21%)
HBL 304.39 Increased By ▲ 0.61 (0.2%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.93 Increased By ▲ 0.08 (0.81%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 0.43 (1.64%)
MLCF 90.96 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
OGDC 314.45 Increased By ▲ 1.06 (0.34%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
PIBTL 14.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 238.07 Decreased By ▼ -1.55 (-0.65%)
PPL 220.90 Decreased By ▼ -0.46 (-0.21%)
PRL 91.30 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 90.80 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SSGC 23.32 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.13%)
TPLP 12.68 Increased By ▲ 0.12 (0.96%)
TRG 55.76 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
UNITY 8.02 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

سپریم کورٹ میں ریزرو نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے وکیل فیصل صدیقی نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں آئینی تشریح درکار ہے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ کیا وہ اس کیس میں آئینی تشریح کی ضرورت کو مانتے ہیں، جس پر انہوں نے ”ہاں“ میں جواب دیا۔

یہ سماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظرثانی درخواستوں پر پیر کے روز ہوئی۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے تین درخواستیں دائر کی ہیں، تاہم بینچ کو آگاہ کیا گیا کہ یہ درخواستیں ابھی عدالت کو موصول نہیں ہوئیں۔ بعد ازاں حامد خان نے بتایا کہ رجسٹرار آفس نے ان کی درخواستوں کو نہ قبول کیا اور نہ ہی واپس کیا، بلکہ انہیں ”اسکینڈلوس“ قرار دیا گیا۔

فیصل صدیقی نے بینچ کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جس بینچ نے اصل فیصلہ دیا، نظرثانی کی سماعت بھی اسی تعداد کے ججز پر مشتمل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظرثانی کے لیے 13 رکنی بینچ ضروری ہے کیونکہ اصل فیصلہ بھی 13 رکنی بینچ نے دیا تھا۔

جسٹس امین نے بتایا کہ دو ججز کی خواہش پر بینچ دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے اور ان کا اختلافی نوٹ فیصلے کا حصہ بنایا جائے گا۔ جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ اگر وہ ججز واپس بینچ میں شامل ہوں تو کیا وہ اپنے پچھلے فیصلے کا جائزہ لیں گے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سوال یہ ہے کہ آیا سپریم کورٹ رولز آئینی بینچ پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 191A آئینی بینچ کی تشکیل کو ترجیح دیتا ہے۔

سماعت آج (منگل) تک ملتوی کر دی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.