BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-0.96%)
KSE100 Decreased By (-0.82%)
KSE30 Decreased By (-1.49%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 23.99 Decreased By ▼ -0.12 (-0.5%)
BOP 31.08 Decreased By ▼ -0.62 (-1.96%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.80 Increased By ▲ 0.25 (1.61%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.25 Decreased By ▼ -0.89 (-0.96%)
FCCL 58.00 Decreased By ▼ -0.71 (-1.21%)
FFL 13.30 Decreased By ▼ -0.17 (-1.26%)
GGL 19.65 Decreased By ▼ -0.26 (-1.31%)
HBL 301.00 Decreased By ▼ -1.76 (-0.58%)
HUBC 202.79 Decreased By ▼ -5.26 (-2.53%)
HUMNL 8.65 Decreased By ▼ -0.04 (-0.46%)
KEL 6.09 Decreased By ▼ -0.05 (-0.81%)
LOTCHEM 24.45 Decreased By ▼ -0.37 (-1.49%)
MLCF 100.20 Decreased By ▼ -1.89 (-1.85%)
OGDC 314.49 Decreased By ▼ -1.75 (-0.55%)
PAEL 33.69 Decreased By ▼ -0.33 (-0.97%)
PIBTL 13.25 Decreased By ▼ -0.17 (-1.27%)
PIOC 262.00 Decreased By ▼ -3.44 (-1.3%)
PPL 218.75 Decreased By ▼ -2.55 (-1.15%)
PRL 85.40 Increased By ▲ 0.80 (0.95%)
SNGP 91.90 Decreased By ▼ -1.95 (-2.08%)
SSGC 22.67 Decreased By ▼ -0.27 (-1.18%)
TELE 7.16 Increased By ▲ 0.09 (1.27%)
TPLP 13.06 Decreased By ▼ -0.05 (-0.38%)
TRG 53.30 Decreased By ▼ -0.73 (-1.35%)
UNITY 8.11 Increased By ▲ 0.21 (2.66%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

جنیوا میں پیر کے روز ہونے والے عالمی ادارہ صحت کے سالانہ اجلاس میں رکن ممالک نے تائیوان کو اجلاس میں مدعو کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔

چین، جو جمہوری طور پر منتخب حکومت کے تحت جزیرہ تائیوان کا نظم و نسق سنبھالتا اور اسے اپنا ریاستی علاقہ قرار دیتاہے، اور پاکستان نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے، جس کے بعد اجلاس نے تائیوان کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

بیلیز اور سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، جو ان چند 12 ممالک میں شامل ہیں جن کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہیں، نے اُن ممالک کی نمائندگی کی جنہوں نے تائیوان کو اس سال کے ڈبلیو ایچ او اجلاس میں مبصر کے طور پرشامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اجلاس میں سینٹ ونسنٹ نے تائیوان کو شامل نہ کرنے کے فیصلے کو ”غیر منصفانہ اور خود اپنے لیے نقصان دہ“ قرار دیا جبکہ بیلیز کے نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ”ہماری اجتماعی تیاری اور وباؤں سے نمٹنے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے۔“

تاہم کسی بڑے مغربی ملک نے نہ تو اس تجویز کی حمایت کی اور نہ ہی اس پر دستخط کیے۔ حتیٰ کہ امریکہ، جو ڈبلیو ایچ او سے علیحدہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، نے اجلاس کے دوران اپنی نشست خالی رکھی۔

چینی سفیر چین شو، جو کہ 200 سے زائد افراد پر مشتمل چینی وفد کا حصہ ہیں، نے کہا ”یہ تجویز اقوامِ متحدہ کے اختیار اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی نظم کو کھلا چیلنج دیتی ہے۔“

چین کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تائیوانی حکام کے ”علیحدگی پسند رویے“ کے باعث ان کی ڈبلیو ایچ او میں شرکت کی سیاسی بنیاد ختم ہو چکی ہے۔

بیان میں اس تاثر کو بھی ”سیاسی جھوٹ“ قرار دیا گیا کہ تائیوان کو شامل نہ کرنے سے وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری میں کوئی خلا پیدا ہوا ہے۔

2009 سے 2016 کے درمیان، تائیوان اُس وقت کے صدر ما یِنگ جیو کی حکومت کے تحت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی اسمبلی کے اجلاسوں میں مبصر کی حیثیت سے شریک ہوتا رہا، جنہوں نے چین کے ساتھ اہم تجارتی اور سیاحتی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

تائیوان کی شرکت کا سوال ہر سال عالمی ادارہ صحت کی اسمبلی میں زیرِ بحث آتا ہے۔

چین کی مخالفت کے باعث تائیوان کو بیشتر بین الاقوامی تنظیموں سے باہر رکھا جاتا ہے۔

اس سال بھی تائیوان کے ایک وفد نے ڈبلیو ایچ او کی اسمبلی میں شمولیت کے لیے مہم چلائی۔ اس مہم کے دوران جنیوا کی سڑکوں پر ایک گاڑی گھومتی رہی جس پر تائیوان کی ثقافت کی علامتیں، جیسے ببل ٹی اور تائپے 101 فلک بوس عمارت،کی تصاویر آویزاں تھیں۔

Comments

Comments are closed.