سپریم کورٹ میں سیکشن 4 بی کے تحت لگائے گئے سپر ٹیکس کے خلاف 354 ٹیکس دہندگان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران وفاق نے موقف اختیار کیا ہے کہ عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کی بحالی پر وصول شدہ رقم سے زیادہ خرچ کیا گیا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے وزارت خزانہ کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ سیکشن 4 بی کے تحت اب تک 114 ارب روپے جمع ہوئے، جبکہ وفاق نے 117 ارب روپے ٹی ڈی پیز کی بحالی پر خرچ کیے، حالانکہ ابتدائی تخمینہ 80 ارب روپے تھا۔
انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس اُن افراد، ایسوسی ایشنز، کمپنیوں اور بینکوں پر عائد کیا گیا جو سالانہ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھتے ہیں۔ یہ رقم وفاقی فنڈ میں جمع ہوتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں اور وفاق کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔ وفاق نے اپنے حصے کے 42.5 فیصد میں سے یہ رقم خرچ کی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ آخر سپر ٹیکس کیوں عائد کیا گیا؟ اس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وکیل عاصمہ حمید نے کہا کہ اگر یہ رقم بجٹ سے نکالی جاتی تو دیگر ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے، اس لیے سپر ٹیکس عائد کیا گیا۔
ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی نے دلائل دیے کہ یہ ایک علیحدہ محصول ہے جو سیکشن 4 کے تحت انکم ٹیکس کے علاوہ لاگو ہوتا ہے، اور اس کی وصولی و تخمینہ کا الگ طریقہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 260 کے مطابق پارلیمنٹ کو عوامی مفاد میں مخصوص ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور چوتھے شیڈول کے انٹری 47 کے تحت آمدن پر ایک سے زائد ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے سیکشن 4 بی کا اضافہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے اور اسے دوہرا ٹیکس کہنا درست نہیں۔
کیس کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.