BR100 Decreased By (-0.63%)
BR30 Decreased By (-0.94%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 56.47 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 24.77 Increased By ▲ 0.14 (0.57%)
BOP 29.98 Decreased By ▼ -0.14 (-0.46%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.18 (-1.39%)
DFML 18.15 Increased By ▲ 0.66 (3.77%)
DGKC 184.90 Decreased By ▼ -2.32 (-1.24%)
FABL 93.49 Decreased By ▼ -0.22 (-0.23%)
FCCL 50.97 Decreased By ▼ -0.68 (-1.32%)
FFL 14.33 Decreased By ▼ -0.16 (-1.1%)
GGL 18.86 Decreased By ▼ -0.18 (-0.95%)
HBL 301.50 Decreased By ▼ -2.28 (-0.75%)
HUBC 197.70 Decreased By ▼ -1.26 (-0.63%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.05 (-0.51%)
KEL 6.01 Decreased By ▼ -0.05 (-0.83%)
LOTCHEM 26.10 Decreased By ▼ -0.07 (-0.27%)
MLCF 89.20 Decreased By ▼ -2.03 (-2.23%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.94 Decreased By ▼ -0.30 (-0.85%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.99 Decreased By ▼ -4.63 (-1.93%)
PPL 219.00 Decreased By ▼ -2.36 (-1.07%)
PRL 91.30 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 90.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.41%)
SSGC 23.06 Decreased By ▼ -0.24 (-1.03%)
TELE 7.49 Decreased By ▼ -0.12 (-1.58%)
TPLP 12.05 Decreased By ▼ -0.51 (-4.06%)
TRG 55.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.88%)
UNITY 8.00 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

سپریم کورٹ میں سیکشن 4 بی کے تحت لگائے گئے سپر ٹیکس کے خلاف 354 ٹیکس دہندگان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران وفاق نے موقف اختیار کیا ہے کہ عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کی بحالی پر وصول شدہ رقم سے زیادہ خرچ کیا گیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے وزارت خزانہ کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ سیکشن 4 بی کے تحت اب تک 114 ارب روپے جمع ہوئے، جبکہ وفاق نے 117 ارب روپے ٹی ڈی پیز کی بحالی پر خرچ کیے، حالانکہ ابتدائی تخمینہ 80 ارب روپے تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس اُن افراد، ایسوسی ایشنز، کمپنیوں اور بینکوں پر عائد کیا گیا جو سالانہ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھتے ہیں۔ یہ رقم وفاقی فنڈ میں جمع ہوتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں اور وفاق کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔ وفاق نے اپنے حصے کے 42.5 فیصد میں سے یہ رقم خرچ کی۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ آخر سپر ٹیکس کیوں عائد کیا گیا؟ اس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وکیل عاصمہ حمید نے کہا کہ اگر یہ رقم بجٹ سے نکالی جاتی تو دیگر ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے، اس لیے سپر ٹیکس عائد کیا گیا۔

ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی نے دلائل دیے کہ یہ ایک علیحدہ محصول ہے جو سیکشن 4 کے تحت انکم ٹیکس کے علاوہ لاگو ہوتا ہے، اور اس کی وصولی و تخمینہ کا الگ طریقہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 260 کے مطابق پارلیمنٹ کو عوامی مفاد میں مخصوص ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور چوتھے شیڈول کے انٹری 47 کے تحت آمدن پر ایک سے زائد ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے سیکشن 4 بی کا اضافہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے اور اسے دوہرا ٹیکس کہنا درست نہیں۔

کیس کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.