عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے حکومتِ پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ (26-2025) میں تمام برانڈز کی سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں مزید اضافہ کرے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر صحت عامہ سے متعلق خدشات کے باعث عالمی سطح پر سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کا دباؤ ہے۔
جب دو بڑی سگریٹ ساز کمپنیوں کی فروخت میں ایف ای ڈی میں 200 فیصد اضافے کے بعد کمی سے متعلق سوال کیا گیا تو حکام کا کہنا تھا کہ فروخت میں کمی کے باوجود یہ حقیقت برقرار ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اور دنیا بھر میں سگریٹس پر ٹیکس کا کم از کم معیار مقرر کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے حالیہ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے اعتراف کیا کہ ملک میں غیر قانونی سگریٹس کے خلاف موثر کارروائی کا فقدان ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اسمگل شدہ یا غیر قانونی سگریٹس سے بھرے ہر 10 ٹرکوں میں سے صرف ایک کو ایف بی آر کی محدود افرادی قوت کے باعث ضبط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو دیے گئے نئے اختیارات سے صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے غیر قانونی سگریٹس کی ریٹیل سطح پر روک تھام میں مدد ملے گی۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق کوئی بھی سگریٹ جو لازمی اسٹیمپ کے بغیر ہو، غیر قانونی ہے۔ ایف بی آر اس غیر قانونی تجارت سے نمٹنے کے لیے صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد حاصل کرے گا اور ایک جامع ایس او پی بھی تیار کر رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025



















Comments
Comments are closed.