گزشتہ ہفتے میڈیا پر 3 ایسی خبریں آئیں جن کا تعلق ایک دوسرے سے تھا۔ کچھ لوگوں نے ان خبروں پر توجہ دی تاہم بیشتر لوگوں نے ان خبروں کو نظر انداز کیا۔ پہلی خبر یہ تھی کہ مارچ 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 4.1 ارب ڈالر پاکستان بھیجے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ یہ اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ ترسیلات زر ہیں۔
دوسری خبر یہ تھی کہ صرف تین مہینوں میں 1 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ پاکستانی کام کی تلاش میں بیرونِ ملک گئے۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں روزگار کی کمی ہے۔
تیسری اور سب سے افسوسناک خبر یہ تھی کہ کئی پاکستانی، جو نوکری کے لیے غیر ملکی سفر پر تھے، ایک کشتی کے حادثے میں غرقاب ہوگئے۔
ایک طرف لوگ ترسیلات زر کی بڑی رقم پر خوشی منا رہے ہیں اور اسے اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں تاہم دوسری طرف اتنے زیادہ لوگوں کا ملک چھوڑنا اور کشتی حادثے میں اموات بہت افسوس کی بات ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان حالات کی ذمہ داری کوئی بھی قبول نہیں کر رہا۔
ان کے مطابق اس اضافے کی وجوہات میزبان ملکوں میں بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیاں، روپے کے مقابلے میں غیر ملکی کرنسی کی مضبوطی، اور قانونی ذرائع سے رقوم بھیجنے کے لیے حکومتی کوششیں ہیں۔
اگرچہ یہ وجوہات ترسیلات زر کے بڑھنے میں کسی حد تک کردار ادا کرتی ہیں، مگر اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں تین اہم پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا: ترسیلاتِ زر میں اضافہ، روزگار کی تلاش میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں کا ملک سے باہر جانا، اور بہتر زندگی کی تلاش میں سمندروں میں اپنی جانیں گنوانا۔
مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں پاکستانی کام کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں، جن میں خلیجی ممالک — خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان — اہم مقامات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
2025 کے پہلے تین مہینوں میں 1,72,000 سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے روانہ ہو ئے۔
2024 میں 7,27,381 ماہر افراد نے پاکستان چھوڑا، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
2023 میں 8,62,625 پاکستانی بیرونِ ملک گئے، جس میں سعودی عرب سب سے بڑی منزل تھا۔
2022 میں 8,32,339 افراد روزگار کی تلاش میں مختلف ممالک روانہ ہوئے۔
یہ ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے کہ گزشتہ دو سال اور تین ماہ میں 24 لاکھ سے زائد پاکستانی اپنے روزگار کے لیے ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اس تعداد میں غیر قانونی تارکینِ وطن اور پناہ گزین شامل نہیں۔ ان تارکینِ وطن میں ماہر ورکرز، ڈاکٹرز، انجینئرز، پیرا میڈیکس، اساتذہ اور دیگر پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس ہجرت کی سب سے بڑی وجہ وہ چیلنجز ہیں جن کا پاکستان اس وقت سامنا کر رہا ہے جن میں بڑھتی ہوئی آبادی، مقامی طور پر روزگار کے محدود مواقع، بڑھتی مہنگائی، معاشی اور سیاسی عدم استحکام، مایوسی اور غیر متوقع مستقبل شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر پاکستان سے ہجرت کی لہر کو بڑھا رہے ہیں۔
اس وقت ملک میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ ماہر افراد کی ہجرت کو برین ڈین سمجھا جائے یا ایک موقع، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے ماہر افراد کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملک کی تعمیر کر سکیں۔ اگر پاکستان میں بہتر ماحول فراہم کیا جائے تو بیرونِ ملک جانے والے ماہر افراد کی تعداد کم ہو جائے گی۔
اس کا فائدہ یہ ہے کہ جتنے زیادہ پاکستانی بیرونِ ملک جائیں گے، اتنی ہی زیادہ ترسیلاتِ زر پاکستان آئیں گی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور بیرونِ ملک ہجرت کے درمیان ایک تعلق ہے اور یہ منطقی ہے کہ پاکستان سے ہجرت میں جو اضافہ ہو رہا ہے، وہ ترسیلاتِ زر میں اضافے سے جڑا ہوا ہے۔
2024 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 30.3 ارب ڈالر کی رقوم بھیجیں جو کہ 2023 میں 27.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر سے 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ 2025 میں بھی ایک اور بڑا اضافہ متوقع ہے۔ مگر سوال یہ ہے: یہ اضافہ کس قیمت پر ہوگا؟
The writer is a former President, Overseas Investors Chamber of Commerce and Industry


























Comments
Comments are closed.