دبئی نے ان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے ایک اسکول کا آغاز کیا ہے جو سفر نامہ لکھنا پسند کرتے ہیں یا پھر ان کی توجہ سفر پر مبنی مواد تخلیق کرتے ہیں تاکہ وہ خود کو ڈیجیٹل میڈیا کے ایک اہم مرکز کے طور پر پیش کر سکے۔
دبئی کارپوریشن فار ٹوررازم اینڈ کامرس مارکیٹنگ (وزٹ دبئی) نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی ”بیوٹیفل ڈیسٹینیشنز“ کے ساتھ شراکت داری میں ’بیوٹیفل ڈیسٹینیشنز اکیڈمی، پاورڈ بائی دبئی‘ کے نام سے اس منصوبے کا آغاز کیا ہے۔
ایک بیان کے مطابق اس اکیڈمی کا مقصد سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے رہنما خطوط متعارف کرانا ہے تاکہ اس غیر رسمی پیشے میں ساخت، اعتبار اور جواب دہی لائی جا سکے۔
نصاب کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ ایسی تخلیقی اور تجارتی دونوں مہارتیں پیدا کریں جس میں تکنیکی مہارت کو مارکیٹنگ کے اصولوں کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اکیڈمی سیاحتی مقامات اور ہوٹلنگ برانڈز کو تصدیق شدہ تخلیق کاروں کے ایک منتخب نیٹ ورک تک رسائی فراہم کرے گی، ساتھ ہی ایسے پیشہ ور افراد کا ایک پائیدار اور قابلِ توسیع سلسلہ بھی تیار کرے گی جو اس شعبے کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس ہوں۔
ایجنسی کے سی ای او اور بانی جیریمی جاؤنسی کے مطابق سیاحت کی صنعت میں بنیادی تبدیلی رونما ہو رہی ہے کہ سیاحتی مقامات کس طرح سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 76 فیصد سیاحتی فیصلے اب سوشل میڈیا کے مواد سے متاثر ہوتے ہیں، صرف 24 فیصد سیاحت اور ہوٹلنگ برانڈز کے پاس اندرونِ خانہ ایسی ٹیمیں موجود ہیں جو ایسا اعلیٰ معیار کا مواد تخلیق کر سکیں جو قارئین اور سیاحت کا شوق رکھنے والے افراد کو متوجہ کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ کالج اس خلا کو براہ راست دور کرے گا اور خصوصی صلاحیتوں کی حامل ایک نئی نسل کو پروان چڑھائے گا۔
اس پروگرام کی ایک اہم ترجیح تمام مارکیٹوں سے متنوع ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا ہے جس سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ سیاحت کی مارکیٹنگ وسیع تر نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بنیادی طور پر سیاحت کے نظام کے اندر ایک نیا پیشہ ورانہ زمرہ تشکیل دے رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ بیوٹیفل ڈیسٹینیشنز اکیڈمی سرٹیفیکیشن سفر سے متعلق مارکیٹنگ مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے صنعت کا معیار بن جائے جیسے کہ دیگر شعبوں میں مخصوص پیشہ ورانہ اسناد کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
نئے بینچ مارکس قائم کرنا
بیان میں اس اکیڈمی کو ایک پیشرو پیشہ ورانہ ترقیاتی منصوبہ قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد سیاحتی مواد کی تخلیق کے لیے نئے عالمی بینچ مارکس قائم کرنا اور سیاحت کے شعبے میں ہنر مند مارکیٹنگ ماہرین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے۔
وزٹ دبئی کے سی ای او عصام کاظم نے کہا کہ یہ اکیڈمی ہمارے اس عزم کا ثبوت ہے کہ ہم سیاحت کے شعبے میں مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے ایک مخصوص جگہ فراہم کر کے تخلیق، جدت اور معیار کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ، ہمارا مقصد دبئی کی عالمی کشش کو بڑھانا اور اس کی حیثیت کو مزید مضبوط بنانا ہے کہ یہ رہائش، ملازمت اور سیر و تفریح کیلئے دنیا کا بہترین شہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دبئی اپنی متنوع پیشکشوں اور تجربات کی بدولت تخلیقی اور پرکشش مواد کے لیے ایک بے مثال پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ اُن کی امید ہے کہ یہ اکیڈمی دنیا بھر کے مواد تخلیق کرنے والوں کو ان کی اسٹوری ٹیلنگ مزید مؤثر بنانے میں مدد دے گی۔
مواد تخلیق کرنے والوں کا سیاحت کے فیصلوں میں اہم کردار
بیان میں مزید کہا گیا کہ چونکہ ڈیجیٹل مواد اب سفر کے فیصلوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس لیے بیوٹیفل ڈیسٹینیشنز اکیڈمی اس شعبے کی اس مضبوط مانگ کو پورا کرتی ہے جو ایسے ماہرین کی ضرورت کو محسوس کر رہی ہے جو اس اعلیٰ معیار کا مواد تخلیق کر سکیں جو آج کے مسافروں کو متاثر کرنے کے لیے درکار ہے اور جو مختلف پلیٹ فارمز پر مقامی نوعیت کا ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ شراکت داری بڑھتی ہوئی تخلیق کار معیشت کے عالمی مرکز کے طور پر دبئی کی پوزیشن کو مضبوط کرتی ہے جو گولڈمین ساکس کے مطابق 2027 تک نصف ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اس سے قبل دبئی حکومت نے کہا تھا کہ وہ 10 ہزار بااثر افراد کو شہر کی طرف راغب کرنا چاہتی ہے۔ اس نے ’کری ایٹرز ایچ کیو‘ کے نام سے ایک اقدام شروع کیا ہے، جس کے ارکان کو متحدہ عرب امارات کے گولڈن ویزا درخواستوں، منتقلی کی مدد اور کمپنی کے سیٹ اپ اور رجسٹریشن میں مدد ملے گی۔
کریئیٹرز ایچ کیو کو مختلف ٹیلنٹ کو راغب کرنے اور ان کی معاونت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جن میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے، ان کے معاونین، پوڈکاسٹرز، اور ویژول آرٹسٹس شامل ہیں۔ اس کا مقصد تخلیقی صنعتوں کے ماہرین کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنا ہے جس میں اشتہارات اور مارکیٹنگ کی کمپنیاں، میڈیا اور موسیقی پروڈیوسرز، اینیمیشن اسٹوڈیوز، اور فیشن و لائف اسٹائل برانڈز شامل ہیں۔
محمد آل گرجاوی، وزیرِ مملکت برائے کابینہ امور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عالمی سطح پر مواد تخلیق کرنے والے افراد متحد ہو کر یو اے ای میں جمع ہوں، جو اپنی ثقافتی تنوع کے لیے معروف ہے، جہاں انہیں حمایت ملے گی اور وہ فنڈنگ اور سرمایہ کاروں سے جڑ کر جدت اختیار کریں اور اپنی پہنچ کو بڑھا سکیں۔


























Comments
Comments are closed.