پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے جمعرات کو کہاہے کہ وہ آئندہ چند روز میں کابل کا ایک روزہ دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ان کشیدگیوں کے تناظر میں ہو رہا ہے جو پاکستان کی افغان پناہ گزینوں کے انخلاء کی مہم کے باعث پیدا ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً 60,000 افغان وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ تیاریوں کے سلسلے میں ملاقاتیں جاری ہیں اور امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں میں کابل کا ایک روزہ دورہ کروں گا تاکہ گزشتہ چند برسوں سے جاری جمود کو توڑا جا سکے۔
اسلام آباد نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ 800,000 سے زائد افغانوں کو ملک بدر کرے گا جن پر دہشت گردی اور منشیات کے نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے کے الزامات ہیں۔ تاہم ماہرین اس اقدام کو سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کیا تھا اور اس پر خفیہ طور پر نیٹو افواج کے خلاف ان کی بغاوت میں مدد دینے کے الزامات بھی لگے تھے۔ تاہم، 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔
گزشتہ سال پاکستان کے لیے ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد سال ثابت ہوا ہے اور اسلام آباد نے کابل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں پناہ لینے دیتا ہے، جہاں سے وہ حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ طالبان حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
منگل کے روز، بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن( آئی ایم او) نے بتایا کہ اپریل کے آغاز سے اب تک پاکستان تقریباً 60,000 افغانوں کو ملک بدر کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ افغان شہری مقیم ہیں، جن میں سے بہت سے دہائیوں سے یہاں آباد ہیں یا یہاں پیدا ہوئے، جو مختلف ادوار میں افغانستان میں جاری جنگوں کے باعث ہجرت کر کے آئے۔
پاکستانی حکومت نے 800,000 سے زائد افغانوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں اور ان افغان باشندوں کو جو تیسرے ممالک میں منتقل ہونے کے منتظر ہیں، خبردار کیا ہے کہ وہ اپریل کے اختتام تک پاکستان چھوڑ دیں۔
مزید برآں، اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کی جانب سے جاری کردہ ”پروف آف رجسٹریشن“ کارڈ رکھنے والے 13 لاکھ سے زائد افراد کو اسلام آباد اور راولپنڈی چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے، محمد صادق نے اس مہینے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
افغانستان کے دورے پر موجود محمد صادق نے کہا کہ ٹی ٹی پی ایک بہت بڑا چیلنج ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کو اس معاملے پر ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، اگر وہ اس پر کام نہیں کرتے تو تمام معاہدے ختم سمجھے جائیں گے۔
ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) ایک علیحدہ لیکن افغان طالبان سے قریبی تعلق رکھنے والا گروہ ہے جو پاکستان میں سیکیورٹی فورسز پر بار بار حملے کرتا ہے۔
























Comments
Comments are closed.