BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.23%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.09 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
BOP 30.94 Decreased By ▼ -0.76 (-2.4%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.18 (1.16%)
DGKC 200.41 Decreased By ▼ -2.78 (-1.37%)
FABL 91.91 Decreased By ▼ -1.23 (-1.32%)
FCCL 58.05 Decreased By ▼ -0.66 (-1.12%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.24 Decreased By ▼ -0.67 (-3.37%)
HBL 299.89 Decreased By ▼ -2.87 (-0.95%)
HUBC 201.61 Decreased By ▼ -6.44 (-3.1%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.43 Decreased By ▼ -0.39 (-1.57%)
MLCF 100.04 Decreased By ▼ -2.05 (-2.01%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 33.48 Decreased By ▼ -0.54 (-1.59%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 262.29 Decreased By ▼ -3.15 (-1.19%)
PPL 217.96 Decreased By ▼ -3.34 (-1.51%)
PRL 85.55 Increased By ▲ 0.95 (1.12%)
SNGP 91.96 Decreased By ▼ -1.89 (-2.01%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.15 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
TPLP 13.36 Increased By ▲ 0.25 (1.91%)
TRG 53.41 Decreased By ▼ -0.62 (-1.15%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے وہ 30 روزہ مکمل جنگ بندی قبول نہیں کی جس کی امید امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے تھے۔

یوکرین نے اس محدود معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک تقریباً ایک ماہ تک ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر حملے نہیں کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پیوٹن کی جانب سے بڑی رعایت نہ دینا وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، کیونکہ روسی افواج مشرقی یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، بلیک سی میں جنگ بندی، مکمل جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات فوری طور پر شروع ہوں گے، جن کی میزبانی سعودی عرب کے شہر جدہ میں اتوار کو کی جائے گی۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یوکرین ان مذاکرات میں شامل ہوگا یا نہیں۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے 30 دن کے لیے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے معاہدے کی حمایت کی، لیکن ساتھ ہی پیوٹن کے مکمل جنگ بندی سے انکار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو روس کی جانب سے جنگ طول دینے کی کوششوں کا جواب دینا ہوگا۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا یہ معاہدہ روس کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یوکرین نے روس کی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ دو گھنٹے طویل گفتگو کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ دونوں رہنما جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے پر تیزی سے کام کرنے پر متفق ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق، روس نے کم رعایت دے کر وقت حاصل کیا ہے، اور امریکہ کے یورپی اتحادی ٹرمپ کی روس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں پر تشویش کا شکار ہیں۔

Comments

Comments are closed.