BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.78%)
KSE100 Decreased By (-0.36%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 57.12 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 27.47 Decreased By ▼ -0.15 (-0.54%)
BOP 33.95 Decreased By ▼ -0.66 (-1.91%)
CNERGY 10.95 Increased By ▲ 0.19 (1.77%)
DFML 18.20 Decreased By ▼ -0.21 (-1.14%)
DGKC 213.33 Decreased By ▼ -0.54 (-0.25%)
FABL 100.96 Decreased By ▼ -0.51 (-0.5%)
FCCL 55.85 Decreased By ▼ -0.62 (-1.1%)
FFL 16.21 Decreased By ▼ -0.64 (-3.8%)
GGL 25.08 Decreased By ▼ -0.68 (-2.64%)
HBL 306.84 Decreased By ▼ -1.34 (-0.43%)
HUBC 223.01 Decreased By ▼ -1.38 (-0.62%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.24 (-2.24%)
KEL 7.39 Decreased By ▼ -0.08 (-1.07%)
LOTCHEM 27.70 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
MLCF 96.91 Increased By ▲ 0.35 (0.36%)
OGDC 321.00 Decreased By ▼ -2.45 (-0.76%)
PAEL 43.19 Decreased By ▼ -0.18 (-0.42%)
PIBTL 16.73 Decreased By ▼ -0.07 (-0.42%)
PIOC 287.58 Decreased By ▼ -8.31 (-2.81%)
PPL 222.84 Decreased By ▼ -1.83 (-0.81%)
PRL 59.15 Increased By ▲ 3.64 (6.56%)
SNGP 103.86 Decreased By ▼ -0.81 (-0.77%)
SSGC 25.96 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 12.76 Decreased By ▼ -0.42 (-3.19%)
TRG 60.39 Increased By ▲ 0.34 (0.57%)
UNITY 10.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.39%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.04 (-3.17%)

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے وہ 30 روزہ مکمل جنگ بندی قبول نہیں کی جس کی امید امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے تھے۔

یوکرین نے اس محدود معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک تقریباً ایک ماہ تک ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر حملے نہیں کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پیوٹن کی جانب سے بڑی رعایت نہ دینا وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، کیونکہ روسی افواج مشرقی یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، بلیک سی میں جنگ بندی، مکمل جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات فوری طور پر شروع ہوں گے، جن کی میزبانی سعودی عرب کے شہر جدہ میں اتوار کو کی جائے گی۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یوکرین ان مذاکرات میں شامل ہوگا یا نہیں۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے 30 دن کے لیے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے معاہدے کی حمایت کی، لیکن ساتھ ہی پیوٹن کے مکمل جنگ بندی سے انکار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو روس کی جانب سے جنگ طول دینے کی کوششوں کا جواب دینا ہوگا۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا یہ معاہدہ روس کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یوکرین نے روس کی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ دو گھنٹے طویل گفتگو کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ دونوں رہنما جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے پر تیزی سے کام کرنے پر متفق ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق، روس نے کم رعایت دے کر وقت حاصل کیا ہے، اور امریکہ کے یورپی اتحادی ٹرمپ کی روس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں پر تشویش کا شکار ہیں۔

Comments

Comments are closed.