BR100 Increased By (1.9%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.66%)
KSE30 Increased By (1.87%)
BAFL 58.97 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 27.06 Increased By ▲ 0.06 (0.22%)
BOP 34.75 Increased By ▲ 1.05 (3.12%)
CNERGY 11.06 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
DFML 18.11 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
DGKC 216.99 Increased By ▲ 4.96 (2.34%)
FABL 102.34 Increased By ▲ 2.20 (2.2%)
FCCL 56.42 Increased By ▲ 1.28 (2.32%)
FFL 16.41 Increased By ▲ 0.31 (1.93%)
GGL 23.81 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
HBL 322.04 Increased By ▲ 15.05 (4.9%)
HUBC 221.52 Increased By ▲ 3.04 (1.39%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Increased By ▲ 0.06 (0.83%)
LOTCHEM 27.12 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
MLCF 97.94 Increased By ▲ 2.01 (2.1%)
OGDC 316.30 Increased By ▲ 2.19 (0.7%)
PAEL 42.30 Increased By ▲ 0.38 (0.91%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 269.38 Increased By ▲ 2.21 (0.83%)
PPL 220.69 Increased By ▲ 2.97 (1.36%)
PRL 63.65 Increased By ▲ 0.95 (1.52%)
SNGP 106.24 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.34 (1.27%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.25 (2.95%)
TPLP 14.78 Decreased By ▼ -0.16 (-1.07%)
TRG 61.41 Increased By ▲ 0.74 (1.22%)
UNITY 11.14 Increased By ▲ 1.01 (9.97%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.03 (2.48%)

اسرائیل نے اقوام متحدہ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ 1967 سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم انروا (یو این آر ڈبلیو اے)کے ساتھ اپنے تعلقات کو ریگولیٹ کرنے والے معاہدے کو منسوخ کررہا ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے انروا کو اسرائیل میں کام کرنے سے روکنے اور اسرائیلی حکام کو اس تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے سے روکنے کے لیے قانون منظور کیا تھا جو مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو امداد اور تعلیم کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

اسرائیل نے ہمیشہ انروا پر تنقید کی ہے، جسے 1948 کی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے آغاز سے، انروا کی تنظیم میں حماس کی مداخلت ہے اور اس کے کچھ عملے پر 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا۔

اس قانون سازی نے اقوام متحدہ اور اسرائیل کے کچھ مغربی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جنہیں خدشہ ہے کہ اس سے غزہ میں پہلے سے ہی سنگین انسانی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی، جہاں اسرائیل ایک سال سے حماس کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس پابندی کا تعلق فلسطینی علاقوں یا کسی اور جگہ کارروائیوں سے نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے ایک بیان میں کہا کہ ”ہم نے اقوام متحدہ کو پیش کیے گئے بھاری شواہد کے باوجود کہ حماس نے کس طرح انروا میں دراندازی کی، اقوام متحدہ نے اس حقیقت کو حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا“۔

یہ قانون مغربی کنارے اور غزہ میں انروا کی کارروائیوں کو براہ راست غیر قانونی قرار نہیں دیتی ، جو دونوں بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کی ریاست سے باہر لیکن اسرائیلی قبضے کے تحت سمجھی جاتی ہیں۔

لیکن اس سے ان علاقوں میں کام کرنے کی ان کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوگی ۔ امدادی گروپوں اور اسرائیل کے بہت سے شراکت داروں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی سرگرمیوں میں توسیع کی جائے گی اور ”یو این آر ڈبلیو اے کے ساتھ رابطے کو ختم کرنے اورانروا کے متبادل کو فروغ دینے کی تیاری کی جائے گی“۔

Comments

Comments are closed.