BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.2%)
BAFL 57.72 Decreased By ▼ -0.44 (-0.76%)
BIPL 27.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 34.58 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
CNERGY 13.68 Increased By ▲ 0.57 (4.35%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 215.81 Increased By ▲ 2.15 (1.01%)
FABL 99.27 Decreased By ▼ -0.29 (-0.29%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 334.31 Decreased By ▼ -3.85 (-1.14%)
HUBC 212.96 Decreased By ▼ -0.40 (-0.19%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.36 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.51 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
MLCF 101.93 Decreased By ▼ -0.82 (-0.8%)
OGDC 318.48 Decreased By ▼ -0.44 (-0.14%)
PAEL 42.86 Decreased By ▼ -0.24 (-0.56%)
PIBTL 16.72 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 274.51 Increased By ▲ 1.51 (0.55%)
PPL 230.62 Increased By ▲ 1.17 (0.51%)
PRL 76.73 Increased By ▲ 5.93 (8.38%)
SNGP 102.23 Decreased By ▼ -2.35 (-2.25%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.13%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.31 (-1.97%)
TRG 60.09 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
UNITY 11.47 Decreased By ▼ -0.25 (-2.13%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)

اوپیک پلس کے اعلیٰ وزراء کے اجلاس میں تیل کی پیداوار کی پالیسی کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں دسمبر سے پیداوار میں اضافہ شروع کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے جبکہ کچھ اراکین کو اضافی پیداوار کی تلافی کے لئے مزید کٹوتی کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

روس کی سربراہی میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اتحادیوں کی تنظیم اوپیک پلس کے متعدد وزراء نے آن لائن مشترکہ وزارتی نگرانی کمیٹی (جے ایم ایم سی) کا اجلاس منعقد کیا۔

اوپیک نے میٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ جے ایم ایم سی نے مکمل مطابقت اور تلافی حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مزید برآں کمیٹی مارکیٹ کی صورتحال کا مستقل طور پر جائزہ لیتی رہے گی۔

ستمبر میں تیل کی قیمتیں 2021 کے بعد پہلی بار 70 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں، لیکن اس کے بعد ایران کے اسرائیل پر فوجی حملے کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ممکنہ شدت کے خدشات کی وجہ سے یہ دوبارہ 75 ڈالر سے اوپر بڑھ گئیں۔

اوپیک پلس مجموعی طور پر 5.86 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کی پیداوار میں کٹوتی کررہا ہے، جو عالمی طلب کا تقریباً 5.7 فیصد ہے، یہ اقدامات 2022 کے آخر سے طے شدہ ہیں۔

گروپ نے دسمبر میں 180,000 بیرل یومیہ (بی پی ڈی) پیداوار میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہے، جو 2025 تک پھیلی ہوئی اپنی حالیہ رضاکارانہ کٹوتیوں کے مرحلہ وار خاتمے کا حصہ ہے۔ یہ اضافہ اکتوبر میں ہونا تھا لیکن قیمتوں میں کمی کے بعد اسے مؤخر کر دیا گیا۔

ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اجلاس میں ممالک کی تعمیل پر توجہ مرکوز کی گئی اور توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں خاص طور پر عراق اور قازقستان میں ایسا ہی رہے گا۔

ان ممالک نے ستمبر میں اپنی زائد پیداوار کی تلافی کے لیے 123,000 بیرل یومیہ کی کمی اور بعد کے مہینوں میں مزید کمی کا وعدہ کیا ہے۔

اوپیک کے بیان کے مطابق، عراق، قازقستان اور روس نے میٹنگ میں بتایا کہ انہوں نے ستمبر میں اپنی وعدہ کردہ کٹوتیاں کردی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کی تصدیق اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ثانوی ذرائع سے کی جائے گی جو مشاورتی ادارے اور پرائس رپورٹنگ ایجنسیاں ہیں جنہیں گروپ اپنے ارکان کی پیداوار کی سطح کا تعین کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

وپیک پلس کے ایک ذرائع نے گزشتہ ہفتے رائٹرز کو بتایا کہ اگر ستمبر میں تلافی کٹوتیوں کے بارے میں وضاحت مل جاتی ہے تو دسمبر میں پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمل درآمد میں ناکامی ہوتی ہے تو سعودی عرب اور دیگر ممالک دسمبر سے پیداوار میں مزید تیزی سے اضافہ کر سکتے ہیں

آر بی سی کیپٹل کی ہیلیما کرافٹ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ اگر وہ اس پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ہم رضاکارانہ کٹوتیوں کو تیزی سے ختم کرنے کا تصور کر سکتے ہیں۔

جے ایم ایم سی، جو سعودی عرب، روس اور دیگر اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کے وزرائے تیل پر مشتمل ہے، عام طور پر ہر دو ماہ بعد اجلاس کرتا ہے اور پالیسی تبدیل کرنے کے لئے سفارشات پیش کرسکتا ہے۔ اوپیک پلس کے مکمل اجلاس سے قبل اس کا اگلا اجلاس یکم دسمبر کو ہوگا۔

Comments

Comments are closed.