BR100 Decreased By (-0.96%)
BR30 Decreased By (-1.08%)
KSE100 Decreased By (-0.88%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 56.30 Decreased By ▼ -0.44 (-0.78%)
BIPL 26.85 Decreased By ▼ -0.19 (-0.7%)
BOP 33.12 Decreased By ▼ -0.56 (-1.66%)
CNERGY 10.12 Increased By ▲ 0.31 (3.16%)
DFML 17.93 Decreased By ▼ -0.59 (-3.19%)
DGKC 204.20 Decreased By ▼ -3.67 (-1.77%)
FABL 97.20 Decreased By ▼ -1.70 (-1.72%)
FCCL 52.80 Decreased By ▼ -0.72 (-1.35%)
FFL 16.28 Decreased By ▼ -0.40 (-2.4%)
GGL 23.58 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 300.69 Decreased By ▼ -3.70 (-1.22%)
HUBC 216.15 Decreased By ▼ -1.96 (-0.9%)
HUMNL 10.46 Decreased By ▼ -0.20 (-1.88%)
KEL 7.13 Decreased By ▼ -0.22 (-2.99%)
LOTCHEM 28.50 Decreased By ▼ -0.61 (-2.1%)
MLCF 93.27 Decreased By ▼ -2.23 (-2.34%)
OGDC 316.58 Decreased By ▼ -1.36 (-0.43%)
PAEL 41.00 Decreased By ▼ -0.83 (-1.98%)
PIBTL 16.29 Decreased By ▼ -0.21 (-1.27%)
PIOC 283.50 Increased By ▲ 3.49 (1.25%)
PPL 218.80 Decreased By ▼ -0.94 (-0.43%)
PRL 47.20 Increased By ▲ 2.61 (5.85%)
SNGP 105.39 Decreased By ▼ -2.10 (-1.95%)
SSGC 28.18 Decreased By ▼ -0.75 (-2.59%)
TELE 8.58 Decreased By ▼ -0.18 (-2.05%)
TPLP 12.20 Increased By ▲ 0.10 (0.83%)
TRG 59.00 Decreased By ▼ -1.03 (-1.72%)
UNITY 9.92 Decreased By ▼ -0.19 (-1.88%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

مرسر کی حالیہ کوسٹ آف لیونگ سٹی رینکنگ 2023 میں کراچی اور اسلام آباد غیر ملکیوں کے لیے سب سے کم مہنگے شہر قرار دیے گئے ہیں جبکہ ہانگ کانگ، سنگاپور اور زیورخ رواں سال بین الاقوامی ملازمین کے لیے سب سے مہنگے شہر قرار دیے گئے ہیں۔

اس سال کی درجہ بندی میں پانچ براعظموں کے 227 شہر شامل ہیں۔

مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم مرسر نے ہر مقام پر 200 سے زائد اشیاء کی تقابلی لاگت کی پیمائش کی جس میں رہائش، نقل و حمل، خوراک، کپڑے، گھریلو سامان اور تفریح شامل ہیں، جبکہ کرنسی کی نقل و حرکت کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ناپا گیا۔

درجہ بندی میں سستے ترین مقامات میں ہوانا بھی شامل ہے جس میں گزشتہ سال کے وسط میں کرنسی کی قدر میں زبردست کمی کی وجہ سے 83 درجے کی کمی ہوئی اور پاکستان کے دو شہر کراچی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تین درجے نیچے آگیا ہے، 226 ویں اور اسلام آباد 227 ویں نمبر پر ہے۔

دوشنبے، تاجکستان اور بشکیک، کرغزستان بالترتیب 223 اور 224 ویں نمبر پر ہیں اور درج بالا شہروں سے بہتر پوزیشن پر ہیں۔

 ۔
۔

پاکستان کے معاشی بحران، جو کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں زبردست گراوٹ کے ساتھ سامنے آیا ہے، نے اس درجہ بندی میں مزید تنزلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاہم پاکستان کے اندر شہریوں کو مہنگائی کا سامنا ہے جو مئی میں گزشتہ سال 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد سے اس میں نرمی آئی ہے، لیکن کم مانگ اور معاشی نمو کا مطلب ہے کہ بحران ختم ہونے سے بہت دور ہے۔

 ۔
۔

جنیوا، باسل اور نیویارک شہر بالترتیب چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر پر آئے جبکہ کوپن ہیگن اور ناساؤ (بہاماس) ٹاپ 10 میں شامل ہیں۔

دبئی 13 درجے بہتری کے بعد اب 18 ویں نمبر پرآگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا کے بعد سے دبئی میں بحالی اور زبردست تیزی آئی ہے جو کہ دولت مند افراد کی آمد کی بدولت ہے جو خلیجی ملک کی چکاچوند میں اپنی دولت بطور سرمایہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

نائٹ فرینک کے اعداد و شمار کے مطابق دبئی گھروں کی فروخت کی تعداد کے حوالے سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر رہا اور ان گھروں کی مالیت ایک کروڑ ڈالر سے بھی زائد رہی۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر لند رہا تاہم دبئی نے لندن سے بھی 80 فیصد زیادہ گھر فروخت کیے۔

Comments

Comments are closed.