BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.04%)
KSE100 Decreased By (-0.12%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 56.85 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.40 Decreased By ▼ -0.28 (-0.83%)
CNERGY 10.21 Increased By ▲ 0.40 (4.08%)
DFML 18.03 Decreased By ▼ -0.49 (-2.65%)
DGKC 208.90 Increased By ▲ 1.03 (0.5%)
FABL 98.21 Decreased By ▼ -0.69 (-0.7%)
FCCL 53.95 Increased By ▲ 0.43 (0.8%)
FFL 16.35 Decreased By ▼ -0.33 (-1.98%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.33 (1.4%)
HBL 302.44 Decreased By ▼ -1.95 (-0.64%)
HUBC 218.24 Increased By ▲ 0.13 (0.06%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.16 (-1.5%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 28.95 Decreased By ▼ -0.16 (-0.55%)
MLCF 96.15 Increased By ▲ 0.65 (0.68%)
OGDC 318.79 Increased By ▲ 0.85 (0.27%)
PAEL 41.34 Decreased By ▼ -0.49 (-1.17%)
PIBTL 16.46 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 297.52 Increased By ▲ 17.51 (6.25%)
PPL 220.99 Increased By ▲ 1.25 (0.57%)
PRL 47.54 Increased By ▲ 2.95 (6.62%)
SNGP 106.53 Decreased By ▼ -0.96 (-0.89%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.09 (1.03%)
TPLP 12.32 Increased By ▲ 0.22 (1.82%)
TRG 59.40 Decreased By ▼ -0.63 (-1.05%)
UNITY 9.96 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

معاہدوں کے واجبات، رول اوورز، قرضے، وزیر اعظم کے دورہ چین کا مقصد سانس لینے کی جگہ حاصل کرنا ہے

  • چین پہلے ہی پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود کو بتا چکا ہے کہ وہ معاہدوں کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریگا
شائع اپ ڈیٹ

وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا مقصد چینی کمپنیوں کے ساتھ زیر التوا معاہدوں کے واجبات میں تاخیر کو دور کرنا، زیر غورآئی ایم ایف پروگرام کے اختتام تک رول اوورز اور بجٹ سپورٹ قرضوں کو ری شیڈول کرانا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے آغازکرنا ہے۔

اس بات کا انکشاف مختلف اسٹیک ہولڈرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیا۔

آزاد ماہرین اقتصادیات نے بی آر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواہش کی فہرست بہت پرجوش ہے اور یہ مشکوک ہے کہ آیا چین فہرست میں شامل تینوں معاملوں کو منظوری دے گا یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیوں کے زیر التوا معاہدوں کے واجبات میں تاخیر کا تعلق سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے ہے اور چین پہلے ہی پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود کو بتا چکا ہے کہ وہ معاہدوں کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریگا کیونکہ اس کے بعد دیگر ممالک کے منصوبوں پر دوبارہ مذاکرات کرنا ہوں گے۔

جب بزنس ریکارڈر نے ایجنڈا آئٹمز پر وزارت خزانہ کے عہدیداروں سے جواب مانگا تو انہوں نے اپنی مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ وزیر خزانہ کے آس پاس کے بہت کم لوگ صورتحال سے واقف ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ یہاں تک کہ وہ عملہ جو پچھلے سالوں میں بجٹ بنانے میں مصروف رہتا تھا، اس سال کوئی کام نہیں کررہا ہے۔

بجٹ پیش کرنے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے اور آزاد ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب تک چین، پاکستان کے سب سے بڑے قرض دہندہ کی حیثیت سے پاکستان کی طرف سے طلب کردہ حمایت فراہم نہیں کرتا، آئی ایم ایف پروگرام پر عملے کی سطح کے معاہدے پر راضی نہیں ہوسکتا ہے، جو ایک نیا پروگرام حاصل کرنے کا پہلا مرحلہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سی پیک کے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں چینی تعاون حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں اور انہوں نے وفاقی وزارتوں کو اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ شہباز شریف کا کامیاب دورہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے اور مجموعی طور پر سرمایہ کاری کا باعث بن سکتا ہے۔

عہدیداروں کے ساتھ پس منظر میں بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ بجٹ کی تاریخ، قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، یا اقتصادی سروے کا اجراء، سب کو وزیر اعظم کی چین سے واپسی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات اور میکرو اکنامک اہداف کے تعین کی منظوری دینے والی این ای سی ابھی تک تشکیل نہیں دی گئی ہے اور اس حوالے سے تمام رسمی کارروائیاں وزیراعظم کی چین سے واپسی کے بعد پوری ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم 7 یا 8 جون کو واپس آئیں گے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) 10 جون 2024 کے عارضی بجٹ کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس سے متعلق تجاویز اور فنانس بل کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.