امریکی فیڈ پالیسی کے اشاروں اور آبنائے ہرمز معاہدے کی افواہوں پر تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 38 سینٹ یا 0.42 فیصد کمی کے بعد 89.32 ڈالر فی بیرل رہی
تیل کی قیمتیں جمعے کو مزید کم ہوگئیں اور ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کی جانب گامزن رہیں، کیونکہ تاجروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی سے متعلق اشاروں اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ممکنہ معاہدے کی افواہوں کا جائزہ لیا۔
سنٹرل ڈے لائٹ ٹائم کے مطابق صبح 10 بج کر 54 منٹ پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 38 سینٹ یا 0.42 فیصد کم ہوکر 89.32 ڈالر فی بیرل رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 36 سینٹ یا 0.43 فیصد کمی کے بعد 83.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دونوں اہم بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کے ساتھ اختتام کی جانب بڑھ رہے تھے۔ برینٹ کی قیمت میں ہفتے کے دوران تقریباً 5.38 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.47 فیصد کمی ہوئی۔
پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلِن نے کہا کہ نئے فیڈ چیئرمین کیون وارش کے ان بیانات کے بعد تیل کی قیمتیں مزید نیچے آگئیں جن میں انہوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے رواں سال کے اواخر میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کا عندیہ دیا تھا۔
فلِن نے کہا، ’’عالمی مصنوعات کی مارکیٹیں روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے مزید حملوں کے باعث مضبوط دکھائی دے رہی ہیں، تاہم یہ چہ میگوئیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کہ ممکن ہے ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی معاہدہ سامنے آجائے۔‘‘
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ جمعے کو چھٹے ماہ میں داخل ہوگئی۔
تاجر آبنائے ہرمز سے تیل کی بڑھتی ہوئی ترسیل پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی پیداوار اسی بحری گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
ریسٹڈ کے تجزیہ کار جانیو شاہ نے کہا، ’’مارکیٹ کو اضافی ترسیل، ایران-عمان بحری راہداری اور امریکا کی جانب سے بارودی سرنگیں صاف کیے جانے کے دعووں نے حیران کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار کمی کی ممکنہ وجہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے تیل کی دستیاب مقدار اور ترسیل میں اضافے کی رفتار ہے، جس سے ایشیائی ریفائنریوں کو تیل حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔
امریکا نے رواں ہفتے ایران پر وہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جنہیں اس نے ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ قرار دیا۔ تہران نے ان پابندیوں کو ’’غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تاثیر ختم ہوچکی ہے۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی تیز کردی گئی ہیں۔ قطر کے ایک نمائندے کی جانب سے ایرانی حکام پر بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے حق کا احترام کرنے پر زور دیے جانے کے بعد تہران نے معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بدستور غیر یقینی
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی کا عمل، جس کے ذریعے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی تھی، بدستور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔
جمعے کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف 7 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ 10 روز کی اوسط 15 جہاز یومیہ رہی۔
ایک اور اہم بحری گزرگاہ باب المندب سے 17 اجناس بردار بحری جہاز گزرے، جن میں 6 اندر داخل ہوئے جبکہ 11 باہر نکلے۔
گولڈمین سیکس نے جمعرات کو اندازہ لگایا کہ خلیجی ممالک کی حالیہ مجموعی تیل برآمدات 15 سے 16 ملین بیرل یومیہ رہی ہیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے 7 سے 8 ملین بیرل یومیہ کم، تاہم مارچ کی کم ترین سطح سے 5 سے 6 ملین بیرل یومیہ زیادہ ہیں۔
پی وی ایم آئل فیوچرز کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا کہ اوپیک میں کون شامل رہے گا اور کون باہر ہوگا، چین میں تیل کی طلب کس حد تک متاثر ہوگی اور دنیا بھر میں ریفائنریوں سے متعلق مسائل حل ہوسکیں گے یا نہیں، ان تمام معاملات کا انحصار جنگ کی اس غیر یقینی صورتحال پر ہے۔
ٹرمپ کی وینزویلا سے تیل معاہدے پر نظر
مذاکرات سے واقف ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر کے ایک حصے تک طویل مدتی رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں بالآخر تیل کی درآمدی لاگت کم ہوسکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق وینزویلا اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے گروپ سے علیحدگی پر بھی غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب ماسکو کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے یوکرین کے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں روس یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے رواں ہفتے روسی حکام کو ایسے کسی حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ برطانیہ نیٹو کے بانی ارکان میں شامل ہے۔
یوکرین کے جنرل اسٹاف نے بتایا کہ یوکرینی فوج نے رات کے وقت روس کے یاروسلاول خطے میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔


Comments