ٹرمپ کی ایران کی حمایت کرنے والے ممالک کو سنگین اقتصادی نتائج کی دھمکی
- ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسے ممالک کے خلاف امریکا کیا اقدامات کرے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی مالی یا اقتصادی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی تقریباً 6 ماہ پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
جنگ کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور خلیجی ممالک بھی اس تنازع میں متاثر ہوئے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت کے باعث عالمی منڈیوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی تجارت شدہ تیل کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔
امریکا اور ایران نے اپریل اور جون میں 2 مرتبہ جنگ بندی کے معاہدوں کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا اور بالآخر تنازع ختم کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے۔
ٹرمپ نے بدھ کی شب سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں بے مثال اقتصادی جنگ اور تنہائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرے گا، اسے زبردست اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسے ممالک کے خلاف امریکا کیا اقدامات کرے گا اور کسی ملک کا نام بھی نہیں لیا۔ ان کے بیان میں ایسے امریکی اتحادی بھی شامل ہوسکتے ہیں جو ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں۔
دریں اثنا متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری لین دین اور مالی معاملات غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران سے داغے گئے 2 میزائلوں کی اطلاع کے بعد سامنے آیا، جنہیں ایران نے بے بنیاد قرار دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ تیل کا خریدار ہے۔ تاہم چین کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات امریکا کے لیے جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ایرانی رہنما کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھتا۔
منگل کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے پراُمید لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور یہ مذاکرات شاید پہلے سے کہیں زیادہ مؤثرہیں۔
ٹرمپ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ایک نئے اور زیادہ سخت معاہدے کے خواہاں ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری توانائی اور تحقیق کے پروگراموں پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ یہ معاہدہ اس معاہدے کی جگہ لے گا جس سے امریکا 2018 میں یکطرفہ طور پر دستبردار ہوگیا تھا۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے اور کئی دہائیوں سے مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔


Comments