حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل حملے کا دعویٰ، ٹرمپ کا ایران پر سخت حملوں پرغور
- ایران پر بڑے پیمانے کے حملوں کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، امریکی صدر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگ کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے بارے میں غور کررہے ہیں حوثی باغیوں نے ہفتے کو سعودی عرب پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
مسلسل 13 راتوں تک فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوج نے ہفتے کو ایران پر تازہ حملوں کے اپنے روزانہ کے اعلان کا سلسلہ روک دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران پر بڑے پیمانے کے حملوں کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اس بیان کے چند گھنٹے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پھیل گیا جب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر جازان پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
حوثیوں نے جمعہ کو اپنے فوجی اہداف پر حملوں کے بعد امریکا کے اتحادی سعودی عرب پر خطرناک کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور بحیرۂ احمر میں اس کے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
فروری میں تہران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جنگ میں یہ حالیہ شدت ایک نئے محاذ کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی متوازی ناکہ بندی کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
سعودی حکومت نے ہفتے کو حوثیوں کے ٹیلیگرام چینل انصار اللہ پر جاری اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یمنی میزائل حملے کے نتیجے میں جازان میں آگ بھڑک اٹھی۔
تاہم سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ہفتے کی صبح جازان اور ینبع کے رہائشیوں کے لیے مختصر حفاظتی انتباہات جاری کیے۔
یہ انتباہ اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر حملوں کے جواب میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے والے اہداف کو تباہ کر دیا۔
یمنی سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی حملوں کے اہداف میں بندرگاہی شہر الحدیدہ کا ایک بحری اڈہ اور کمران جزیرے میں واقع ایک فوجی کیمپ بھی شامل تھا۔
دوسری جانب حوثیوں نے رواں ہفتے سعودی عرب کے دو بحری جہازوں پر حملوں کا دعویٰ کیا جبکہ سعودی حکومت نے بحیرۂ احمر میں ان حملوں میں سے ایک کی تصدیق بھی کی۔
اہم موڑ
یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک بڑے آپریشن کو روک کر رکھیں گے کیونکہ تہران اب واشنگٹن کے ساتھ بات چیت میں سنجیدہ ہورہا ہے۔
ایران پر بڑے پیمانے کے حملے کرنے سے متعلق سوال پر اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نہیں میں نے ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس بیان کے ساتھ انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ وہ جنگ کے طول پکڑنے پر بڑھتی ہوئی مایوسی کے باعث وسیع فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں اس وقت ہماری ان سے بات چیت جاری ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کر لے یا پھر امریکی حملوں کی شدت ”بہت زیادہ بڑھنے“ کا سامنا کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تقریباً دو ہفتوں سے جاری امریکی حملوں نے جنگ بندی کو عملاً ختم کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ جس جنگ کے بارے میں انہوں نے کبھی پیش گوئی کی تھی کہ وہ چار یا پانچ ہفتوں میں ختم ہو جائے گی وہ اب اپنے پانچویں ماہ کے قریب پہنچ چکی ہے اور نومبر میں ہونے والے اہم امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ جنگ ان کی مقبولیت پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ فیصلہ کن اقدام کے لیے فیصلہ کن مرحلہ کیا ہوگا، تاہم انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی سرخ لکیر یہ ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا تو پھر کارروائی ناگزیر ہوگی۔


Comments