BR100 Decreased By (-0.33%)
BR30 Increased By (0.07%)
KSE100 Decreased By (-0.31%)
KSE30 Decreased By (-0.36%)
BAFL 59.60 Decreased By ▼ -0.24 (-0.4%)
BIPL 27.19 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 34.99 Decreased By ▼ -0.29 (-0.82%)
CNERGY 13.38 Increased By ▲ 0.25 (1.9%)
DFML 18.94 Increased By ▲ 0.86 (4.76%)
DGKC 214.98 Decreased By ▼ -2.03 (-0.94%)
FABL 99.99 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.17 (-0.29%)
FFL 16.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
GGL 24.30 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
HBL 324.49 Decreased By ▼ -1.72 (-0.53%)
HUBC 211.29 Decreased By ▼ -2.13 (-1%)
HUMNL 10.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 7.64 Increased By ▲ 0.16 (2.14%)
LOTCHEM 27.98 Increased By ▲ 0.23 (0.83%)
MLCF 101.30 Decreased By ▼ -1.68 (-1.63%)
OGDC 324.20 Increased By ▲ 0.42 (0.13%)
PAEL 44.00 Increased By ▲ 0.10 (0.23%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
PIOC 274.90 Decreased By ▼ -1.29 (-0.47%)
PPL 231.69 Increased By ▲ 2.22 (0.97%)
PRL 71.98 Increased By ▲ 1.87 (2.67%)
SNGP 104.00 Increased By ▲ 0.34 (0.33%)
SSGC 27.29 Increased By ▲ 0.18 (0.66%)
TELE 8.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.11%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.23 (-1.47%)
TRG 61.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.21%)
UNITY 12.40 Increased By ▲ 0.36 (2.99%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
پاکستان

امن مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات

  • پاکستانی قیادت کی ایرانی وفد سے بھی علیحدہ ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

سرکاری ٹی وی کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں انتہائی متوقع تکنیکی سطح کے مذاکرات سے قبل اتوار کو وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ ملاقات کی۔

رائٹرز کے مطابق ملاقات کے دوران پُرجوش انداز میں مصافحہ ہوا اور جے ڈی وینس نے سید عاصم منیر سے ہاتھ ملاتے ہوئے اور انہیں گلے لگاتے ہوئے کہا ” کیا حال ہیں بھائی؟ ۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وٹکوف کی طرف ہاتھ بڑھایا اور انہیں گلے سے لگاتے ہوئے کہا ” میرے بھائی ” ۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے آج برگن اسٹاک میں ایرانی وفد سے بھی ایک اہم ملاقات کی۔ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔

اس دوران جب ایک رپورٹر نے امریکہ ایران مذاکرات میں اسلام آباد کے ثالثی کے کردار پر رائے مانگی تو جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ بہت عمدہ ، ہمیں پاکستان سے محبت ہے، آپ کا شکریہ۔

یہ اہم پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے مابین جمعرات کو طے پانے والے اسلام آباد معاہدے (ایم او یو) کے مندرجات پر مشاورت کے لیے امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے وفود کی آمد کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خاتمہ اور مستقل امن کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق فریقین کے مابین باضابطہ مذاکرات کا آغاز جلد ہی ہونے والا ہے، جس کے لیے تمام وفود پہنچ چکے ہیں۔ برگن اسٹاک ریزورٹ پہنچنے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے میڈیا نمائندوں سے جرمن زبان میں مختصر گفتگو بھی کی۔

وزیراعظم اس سے قبل دن میں زیورخ سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ زیورخ پہنچ گئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم آفس نے کہا تھا کہ وزیراعظم اور عسکری سربراہ ایک اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے برگن اسٹاک جا رہے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے نمائندے جمعرات کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلی بار باضابطہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب دفترِ خارجہ نے بھی پاکستان کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سوئٹزرلینڈ نے برگن اسٹاک میں ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کیا۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی وفد امریکا اور ایران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے میں برگن اسٹاک پہنچ چکا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شرکت کے لیے واشنگٹن سے روانہ ہوئے ، جس سے ان مذاکرات کو امریکا کی جانب سے دی جانے والی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں جوہری مسئلے اور لبنان جنگ بندی کے معاملے پر پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ دونوں موضوعات مذاکرات کے اگلے مرحلے کی اہم ترین ترجیحات ہیں۔

21 جون کو ہونے والے ان مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی شریک ہوں گے۔ یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ہونے والی پہلی تکنیکی سطح کی بات چیت ہوگی۔

توقع ہے کہ مذاکرات میں معاہدے کے 60 روزہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا، جن میں تنازع کے خاتمے کے اقدامات، ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے امور شامل ہیں، تاکہ امن عمل کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Comments

200 حروف