ایران امن معاہدہ، ٹرمپ کی جانب سے جلد فیصلہ متوقع
- مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اپنا فیصلہ کر رہے ہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں ٹرمپ کے مؤقف کے کئی نکات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سچ اور جھوٹ کا امتزاج قرار دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے بیانات زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ذرائع نے بتایا تھا کہ کئی ہفتوں کی تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد معاہدہ صرف ٹرمپ کی منظوری کا منتظر تھا، تاہم نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں دو گھنٹے طویل اجلاس کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری تفصیلی بیان میں ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہو اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اہم بحری راستے کی بندش ختم کرے۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تاہم کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے 47 سال قبل لفظ لازمی کو الوداع کہہ دیا تھا۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن ابھی کوئی حتمی معاہدہ موجود نہیں ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ممکنہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری راستے کی بندش ختم کی جائے گی، جبکہ امریکا بھی ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں ختم کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکا مشترکہ طور پر افزودہ یورینیم کو ہٹانے اور تباہ کرنے پر کام کریں گے، اور کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا جب تک مزید پیش رفت نہ ہو۔
تاہم ایران کی فارس نیوز نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران نے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے، اور جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوتی، ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے میں نہیں جائے گا۔
ایرانی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھولنے کی کوئی شق مجوزہ معاہدے میں شامل نہیں، جبکہ ایرانی جوہری مواد کی تباہی کا دعویٰ بھی بنیادی طور پر بے بنیاد ہے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمانی ہم منصب سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کو زیادتی پر مبنی مطالبات اور متضاد مؤقف ترک کرنا ہوں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا کہ ایران کو بیانات یا ضمانتوں پر اعتماد نہیں، صرف عملی اقدامات اہم ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت پر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم رہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے بحری تجارت کی بحالی کے امکانات پر سرمایہ کار محتاط ہیں۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ دشمن ممالک کے جہازوں کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی دوران لبنان کے محاذ پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی افواج نے لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کی ہے، جبکہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں شدید بمباری جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


Comments