مشرق وسطیٰ بحران، پاکستان میں شمسی توانائی کا فروغ مضبوط ڈھال بن گیا
- شمسی توانائی کو اپنانے سے ملک کو رواں سال فروری تک تیل و گیس کی درآمدات کی مد میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کرنے میں مدد ملی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی فراہمی اور بڑھتی قیمتوں کے بارے میں مسلسل خدشات کے باوجود پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ نے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگ کے مکمل اثرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کی۔
گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 2018 کے آس پاس شمسی توانائی کو اپنانے سے ملک کو رواں سال فروری تک تیل و گیس کی درآمدات کی مد میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کرنے میں مدد ملی۔
رینیو ایبلز فرسٹ اور سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی متوقع قیمتوں کے مطابق یہ 2026 کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر بچا سکتا ہے۔
پاکستان کے شمال مشرق میں واقع شہر لاہور کی مصروف گلیوں میں، 49 سالہ دکاندار آفتاب احمد اپنے گھر کے اخراجات کم کرنے کے لیے سولر پینلز خریدنے نکلے تھے۔
انہوں نے گزشتہ جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا کہ ہمارے ملک میں ایندھن کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ یہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکا ہے۔
یہ اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ ایک اوسط درجے کا شخص اب موٹر سائیکل یا گاڑی کے لیے ایندھن کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔ ایندھن کی قیمتیں بجلی کے بلوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں جس سے ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر ہم شمسی توانائی کی طرف منتقل ہو جائیں تو کم از کم ایک طرف سے کچھ بچت تو حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل اسلام آباد میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 42.7 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 54.9 فیصد کے ہوش ربا اضافے کا اعلان کیا تھا۔
اس صورتحال نے مظاہرین کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا، پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں اور حکومت کو ایک ماہ کے لیے سرکاری عوامی نقل و حمل (پبلک ٹرانسپورٹ) مفت فراہم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔
بوم
پاکستان بھر میں گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز ہر جگہ نظر آتے ہیں، جو بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور گرڈ سپلائی میں ہونے والے طویل تعطل (لوڈ شیڈنگ) سے بچنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر جب درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں رینیو ایبلز فرسٹ کی انرجی اینالسٹ نبیہ عمران کا کہنا ہے کہ ان پینلز نے خلیج میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان میں لوگوں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران شمسی توانائی کو اپنایا ہے، اس لیے یہ خاص طور پر پاور سیکٹر میں آبنائے ہرمز کے بحران کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال فراہم کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم نے شمسی توانائی کو اس حد تک نہ اپنایا ہوتا جس حد تک اپنا چکے ہیں، تو پاور سیکٹر پر اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہوتے۔
پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے رجحان کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ سپلائی کی ان کمیوں سے محفوظ ہے جنہوں نے ایشیا بھر کے ممالک کو متاثر کیا ہے۔
گزشتہ ماہ، حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات متعارف کرائے تھے۔ سرکاری ملازمین کے لیے کام کے ایام کم کر کے ہفتے میں چار دن کردیے گئے اور اسکول بند کردیے گئے۔
ایندھن بچانے کی خاطر پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے مقامات بھی چھ سے کم کرکے دو کر دیے گئے اور شائقین کے اسٹیڈیم آنے پر پابندی لگا دی گئی۔
تاہم شمسی توانائی نے پاکستانیوں کے لیے گھر سے کام کرنا زیادہ آسان اور سستا بنا دیا ہے کیونکہ یہ گرڈ اور درآمدی گیس پر انحصار کو کم کر دیتی ہے۔
مارکیٹ کی قوتوں نے ہی بڑے پیمانے پر اس رجحان کو فروغ دیا ہے، جسے تحقیق میں ریکارڈ پر صارفین کی قیادت میں ہونے والی تیز ترین توانائی کی تبدیلیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
مغربی معیشتوں کے برعکس پاکستان نے 2013 سے لے کر گزشتہ سال تک چینی سولر ٹیکنالوجی پر کوئی ٹیرف (محصولات) عائد نہیں کیے۔ نتیجے کے طور پر درآمدات 2018 میں صرف 1 گیگا واٹ سے بڑھ کر رواں سال کے آغاز تک 51 گیگا واٹ تک پہنچ گئیں۔
2022 کے اوائل میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور ساتھ ہی ملکی سطح پر بجلی و گیس کے نرخوں میں ہونے والے بھاری اضافے نے صارفین کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
تحقیق کے مطابق 2022 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں تیل اور گیس کی درآمدات میں 40 فیصد کمی دیکھی گئی۔
سیکیورٹی
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے تخمینے کے مطابق، پاکستان کی 24 کروڑ سے زائد آبادی میں سے 4 کروڑ سے زیادہ لوگ بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔
لاہور میں سولر پینلز فروخت اور نصب کرنے والے منظور اشتیاق کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ہر ایک کی پہنچ میں لانا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا منصوبہ ہونا چاہیے جو ہر گھرانے کو شمسی توانائی اپنانے کی ترغیب دے۔ اس طرح حکومت اور عوام دونوں کو ریلیف ملے گا۔
رینیو ایبلز فرسٹ کی نبیہ عمران کے نزدیک، خلیجی بحران نے اس ضرورت کو واضح کردیا ہے کہ فوسل فیولز (تیل و گیس) پر انحصار کم کیا جائے اور قابلِ تجدید ذرائع کے استعمال سے توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مالی سال 2024 میں پاکستان نے اپنی جی ڈی پی کا تقریباً 11 فیصد حصہ تیل، کوئلہ اور مائع قدرتی گیس سمیت دیگر فوسل فیولز کی درآمد پر خرچ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک بہت بڑی رقم ہے جو ترقی کے دیگر شعبوں پر خرچ کی جا سکتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سولر بیٹری اسٹوریج کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ بجلی کی طلب کے عروج کے اوقات میں لائٹیں روشن رکھنے کے لیے فوسل فیول سے چلنے والے تھرمل پاور پلانٹس پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
نبیہ عمران نے مزید کہا کہ پالیسی سازوں کو ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ اسے ایندھن کی عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھا جا سکے اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے اقدامات کے ذریعے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔


Comments