فوجی سطح پر اے آئی کا استعمال ٹرمینیٹر جیسی دنیا پیدا کر سکتا ہے، چین نے خبردار کردیا
- چینی حکام نے امریکی انتظامیہ کے اس اقدام پر تشویش ظاہر کی کہ وہ اے آئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو فوجی مقاصد کے لیے بلا روک ٹوک استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے
چین نے بدھ کو امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ فوج میں مصنوعی ذہانت کا حد سے زیادہ استعمال دنیا کو ٹرمینیٹر جیسی خطرناک اور ڈسٹوپین صورتحال میں لے جا سکتا ہے۔
چین کے وزارت دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے کہا کہ فوج کی طرف سے اے آئی کا بے قابو اطلاق، دیگر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے لیے اے آئی کا استعمال، جنگی فیصلوں میں الگورتھمز کو زندگی اور موت کی طاقت دینا نہ صرف جنگوں میں اخلاقی پابندیوں اور جوابدہی کو کمزور کرتا ہے بلکہ تکنیکی انتشار کے خطرات کو بھی بڑھاتا ہے۔
چینی حکام نے امریکی انتظامیہ کے اس اقدام پر تشویش ظاہر کی کہ وہ اے آئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو فوجی مقاصد کے لیے بلا روک ٹوک استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ پینٹاگون نے ایلون مسک کے گروک سسٹم کو خفیہ فوجی استعمال کے لیے منظور کیا ہے، جبکہ این تھروپک کمپنی کو اس وقت بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنا کلاؤڈ اے آئی ماڈل بڑے پیمانے پر نگرانی اور خودکار ہلاکت خیز جنگی نظاموں کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی۔
چینی حکام نے خبردار کیا کہ بے لگام اے آئی کے استعمال سے جنگوں میں انسانی کنٹرول اور اخلاقی حدود ختم ہو سکتی ہیں، جو عالمی سطح پر ایک خطرناک اے آئی ریاستی دوڑ کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فلم ٹرمینیٹر میں دکھایا گیا ڈسٹوپین مستقبل ایک دن حقیقی ہو سکتا ہے۔
چین کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی فوجی ایجنسیاں اور اے آئی کمپنیوں کے درمیان تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں، اور اے آئی کے فوجی استعمال کے اخلاقی اور تکنیکی پہلو عالمی مباحث میں اہم موضوع بن گئے ہیں۔


Comments