پی آئی اے کی نجکاری: خریدار کو کوئی ضمانت نہیں دی جائیگی، چیئرمین نجکاری کمیشن
- آئی ایم ایف نے اس لین دین پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے
چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی فروخت اس سال کے اندر مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن ممکنہ خریداروں کو کوئی ضمانت نہیں دے گی۔
آج ٹی وی کے پروگرام ”نیوز انسائٹ ود عامر ضیا“ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد علی نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے اس لین دین پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے، لیکن سرمایہ کاروں کو دیگر قسم کی یقین دہانی نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ایئرلائن یا کاروبار چلانا صوبائی حکومتوں کا مینڈیٹ نہیں۔
نجکاری کی سست رفتاری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ نجکاری عمل کا آغاز نسبتاً چھوٹے اور کم پیچیدہ معاملات سے کیا گیا، جیسے فرسٹ ویمن بینک کی جزوی منتقلی، اور اب بڑے اداروں کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔
حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کے نجکاری معاہدوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف مغربی دلچسپی یا عدم دلچسپی کا نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی طرز حکمرانی کی کمزوریاں، بدعنوانی اور معاشی کمزوریوں نے ملک کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق بڑی معاشی و جیو اسٹریٹجک طاقتیں جی ٹو جی سودوں میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہیں، خاص طور پر جب دوسری طرف سودے بازی کی طاقت کم ہو۔ ان کی ذاتی رائے میں پاکستان کو جہاں ممکن ہو جی ٹو جی ماڈل سے گریز کرتے ہوئے شفاف اور مسابقتی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کے۔الیکٹرک کے شیئرز کی منتقلی کی منظوری نیپرا دے گا یا حکومت۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کے۔الیکٹرک کی اصل فروخت کے وقت مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔
چیئرمین کے مطابق اگلے سال حکومت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔ ساتھ ہی ترک ماڈل پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت طویل المدتی کنسیشن پر نجی شعبہ خدمات فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی توسیع کے لیے ہر ایک کو تقریباً ایک ارب ڈالر سرمایہ درکار ہے، جو حکومت توقع کرتی ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے بعد نجی آپریٹرز خود مہیا کریں گے۔
گیس کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی ترقی رک چکی ہے اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق شعبے کی بہتری کے لیے سوئی گیس کمپنیاں لازمی طور پر فروخت کرنا ہوں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.