پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے وفد نے بدھ کے روز وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی اور چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے کی۔
وزیر خزانہ نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے معیشت کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی اور کہا کہ پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریے درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا، جس میں سرکاری اداروں کی اصلاحات، نجکاری پروگرام اور سرکاری شعبے کی رائٹ سائزنگ کے اقدامات شامل ہیں، تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور یہ طویل المدتی استحکام کی بنیاد رکھے گا۔
وزیر خزانہ نے امریکی حکام کے ساتھ جاری ٹیرف مذاکرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ان مذاکرات سے پاکستانی برآمدکنندگان کو خطے میں ابھرتے ہوئے مسابقتی فوائد کے باعث اہم مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے پاکستان بزنس کونسل اور اسی نوعیت کے نمائندہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ہدفی کاروباری روابط کو فروغ دیں تاکہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جاسکے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ زرمبادلہ کی شرح اور پالیسی ریٹ میں استحکام برقرار ہے اور توقع ہے کہ یہ رجحانات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بزنس اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں، سڑکوں اور ریل کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی مکمل طور پر معترف ہے تاکہ ملکی و بیرونی تجارت کو مزید سہارا دیا جاسکے۔
وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کے حالیہ دورہ چین کے مثبت نتائج کا بھی حوالہ دیا، جس میں اعلیٰ سطح اسٹریٹجک مذاکرات، کاروباری روابط، خصوصی ورکنگ گروپس کی تشکیل اور نجی شعبے کی بے مثال نمائندگی شامل تھی۔ ان روابط کے نتیجے میں متعدد معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ کا مظہر ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے ٹیکس پالیسی آفس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے وزارت خزانہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیکس پالیسی معاملات کو مجموعی معاشی پالیسی سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اس موقع پر انہوں نے حالیہ سیلابی صورتحال کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ حکومت ریسکیو، ریلیف اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ ضروریات کے مطابق اقدامات کر رہی ہے، جبکہ 2020 کے سیلاب سے حاصل ہونے والے اسباق کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے سینیٹر اورنگزیب نے اطمینان ظاہر کیا کہ تیل کی کم قیمتوں کے باعث درآمدی افراطِ زر قابو میں ہے اور مجموعی قیمتوں پر دباؤ محدود رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم اسٹیئرنگ کمیٹی برائے مہنگائی کا پہلا اجلاس منعقد ہوچکا ہے جبکہ دوسرا اجلاس اسی ہفتے ہوگا۔
پاکستان بزنس کونسل کے وفد نے حکومتی معاشی سمت اور اقدامات کو سراہا اور پالیسی تحقیق و تیاری میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی مسلسل مشاورت اور تعمیری مکالمے کے ذریعے حکومت کے ساتھ روابط جاری رکھیں گے۔


Comments
Comments are closed.