✕
مارکٹس

تین بڑی ریفائنریوں کے حکومت کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے طے

  • معاہدوں پر اسلام آباد میں آئی ایس جی ایس کے ساتھ دستخط ہوئے، جسے وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن نے نامزد کیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی تین بڑی ریفائنریوں، جن میں سینرجیکو پی کے، اٹک ریفائنری اور نیشنل ریفائنری شامل ہیں نے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کردیے ہیں۔ کمپنیوں نے بتایا کہ ان معاہدوں کے تحت 2023 کی ترمیم شدہ ریفائنری پالیسی کے تحت موجودہ پلانٹس کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر پیش رفت کی جائے گی۔

لسٹڈ ریفائنریوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے الگ الگ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

معاہدوں پر اسلام آباد میں آئی ایس جی ایس کے ساتھ دستخط کیے گئے، جسے وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن نے موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی (فروری 2024 اور اگست 2026 میں ترمیم شدہ) کے تحت عمل درآمد کرنے والا ادارہ مقرر کیا ہے۔

سینرجیکو پی کے نے اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے نوٹس میں کہا کہ پالیسی کے تحت آئی ایس جی ایس کو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اپ گریڈیشن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت کمپنی کی موجودہ ریفائنری کو اپ گریڈ کرنے اور منظور شدہ منصوبے پر عمل درآمد کی گنجائش موجود ہے، جو پالیسی میں درج شرائط و ضوابط کے مطابق ہوگا۔

کمپنی نے کہا کہ وہ پالیسی کے مقاصد کے مطابق اپنی ریفائنری کو جدید بنانے اور اپ گریڈ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ملک کے ریفائننگ شعبے کو جدید بنانے میں حکومت پاکستان کی معاونت اور اقدامات کو سراہتی ہے۔

دریں اثنا اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے کہا کہ اپ گریڈیشن معاہدے پر عمل درآمد اس کی موجودہ ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید اور بہتر بنانے، آپریشنل کارکردگی بڑھانے، مصنوعات کا معیار بہتر کرنے، یورو-V معیار کے ایندھن کی پیداوار اور پاکستان کے لیے زیادہ پائیدار اور محفوظ توانائی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

اسی طرح نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط موجودہ ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، ملک کے لیے زیادہ پائیدار اور محفوظ توانائی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے اور سپلائی چین کے استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔

موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کا مقصد ملک میں موجود ریفائنریوں کی صلاحیتوں کو جدید اور بہتر بنانا ہے۔ پالیسی کے تحت عالمی معیار کے ایندھن کے تقاضے پورے کرنے، صاف اور ماحول دوست ایندھن کی پیداوار اور مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

اگست 2026 میں پانچوں ریفائنریوں یعنی پارکو، پی آر ایل، این آر ایل، سینرجیکو اور اے آر ایل کی انتظامیہ نے آئندہ ماہ کے آغاز میں معاہدوں پر دستخط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ توقع تھی کہ اس سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

تاہم ستمبر 2026 میں وفاقی کابینہ نے مزید ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے ریفائنریوں کو یکم اکتوبر 2026 تک وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے کرنے کی ہدایت کی، جبکہ معاہدے اوگرا کے بجائے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ کیے جانے تھے۔

مقررہ مدت میں معاہدے نہ کرنے والی ریفائنریوں کے لیے مالی جرمانے بھی متعارف کرائے گئے، جن میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر ڈیمڈ ڈیوٹی میں کمی بھی شامل ہے۔