ایران اور امریکا کی جانب سے ٹینکرز پر حملے، جنگ کے آغاز کے بعد بحری جہازوں پر حملوں کی سب سے بڑی لہر
- ایران اور امریکا کے درمیان اہم آبنائے ہرمز کے قریب بحری اور میزائل حملوں میں شدت کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کو خطرہ لاحق
ایران نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ امریکا نے 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کردیا۔ دونوں جانب سے جوابی حملوں کی یہ سب سے بڑی لہر ہے، جو 6 ماہ سے جاری جنگ کے آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔
آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف ہونے والے حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں اور بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ امریکا میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت بھی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچتے ہوئے 5.94 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔
ایران نے یہ بھی کہا کہ اس نے اردن میں امریکی افواج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اگست کے اختتام کے بعد دونوں جانب سے حملوں میں شدت آئی ہے، جس سے ایک ماہ سے جاری نسبتاً پرسکون صورتحال ختم ہوگئی۔ امریکا اور ایران اب فوجی، بحری اور توانائی کے اثاثوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں اس کے جوابی اقدامات میں نمایاں شدت لائی جائے گی۔ گارڈز کے مطابق اگر دشمن ایران کے دو یا تین اہداف کو نشانہ بناتا ہے تو ایران 20 اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ ایران نے سمندر میں ایک نئے اور وسیع تر ممنوعہ علاقے کے نقشے بھی جلد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جو چابہار کے قریب خلیج عمان سے لے کر بحیرہ عرب اور خلیج فارس کی جانب پھیلے گا۔
دریں اثنا سعودی عرب اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے درمیان بھی لڑائی میں شدت آگئی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ سے عالمی توانائی کی فراہمی کو مزید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ایرانی ٹینکرز میں آگ لگنے کی ویڈیو
امریکی حکام نے کہا کہ انہوں نے رات گئے 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کیے اور ایسے بحری جہازوں کی ویڈیو بھی جاری کی جنہیں ڈوبنے سے قبل آگ لگی ہوئی تھی۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔ امریکا کے مطابق حملے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران جب بھی امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، اس کے نتیجے میں ایرانی ٹینکرز کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے اردن کے مشرقی علاقے العزرق کے قریب امریکی افواج کے زیر استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے اس حصے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنایا، جسے ایران نے ممنوعہ قرار دے رکھا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق شمالی خلیج اور خلیج عمان میں آبنائے ہرمز کے دونوں جانب متعدد تجارتی بحری جہازوں کو نقصان پہنچانے والی فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایجنسی فوری طور پر جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی تصدیق نہیں کرسکی۔
متحدہ عرب امارات کے پورٹ راشد کے قریب ایک بحری جہاز کے ایک جانب جھکنے کی اطلاع بھی ملی، جس سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ میزائل یا کسی اور حملے کے نتیجے میں جہاز میں پانی داخل ہوا ہے۔
عراقی بندرگاہی حکام کے مطابق 20 لاکھ بیرل فرنس آئل لے جانے والے ٹینکر ’نیو اینڈروس‘ میں عراقی پانیوں میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی۔ جہاز پر موجود 22 رکنی عملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران نے کویتی اور بحرینی بندرگاہوں میں موجود آئل ٹینکرز کو بھی دھمکی دی ہے، جبکہ ایک میری ٹائم سکیورٹی ذریعے کے مطابق اماراتی بندرگاہ خورفکان میں ایک ایل این جی ٹینکر کو نقصان پہنچا ہے۔
جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی، تاہم ایران نے اس گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مفلوج کردی ہے۔ امریکا نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ متعدد ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم آزاد مانیٹرز کے مطابق تیل کی اصل ترسیل کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
ایران نے کہا کہ اردن پر داغے گئے میزائلوں سے شدید نقصان ہوا، تاہم اردن کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے 20 میں سے 18 میزائل روک لیے، جبکہ 2 غیر آباد علاقوں میں گرے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے
سعودی عرب اور یمن کے بیشتر آبادی والے علاقوں پر قابض حوثی تحریک کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں مزید غیر یقینی پیدا کردی ہے۔ جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے خلاف متعدد محاذوں سے کارروائی شروع کی ہے، جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
منگل کو حوثیوں نے سعودی عرب کے 4 شہروں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تیل تنصیبات میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جسے خلا سے بھی دیکھا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ریاض کے ساتھ گزشتہ ماہ باہمی دفاعی معاہدہ کرنے والے پاکستان نے سعودی جوابی کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم سعودی عرب نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
سعودی عرب نے بدھ کو خمیس مشیط کے لیے ممکنہ خطرے کے حوالے سے الرٹ جاری کیا، جو ایک روز قبل حوثیوں کے حملے کا نشانہ بننے والے شہروں میں شامل تھا، تاہم بعد میں بغیر کسی تفصیل کے یہ الرٹ واپس لے لیا گیا۔