مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بانڈ مارکیٹ میں مندی شدید ہوگئی
- امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ بڑھ کر تقریباً 3 سال کی بلند ترین سطح 4.81 فیصد ہوگئی
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے، افراط زر کے خدشات اور بڑھتے ہوئے حکومتی قرضوں نے عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ بڑھ کر تقریباً 3 سال کی بلند ترین سطح 4.81 فیصد ہوگئی۔ ماہرین کے مطابق اگر ییلڈ 5 فیصد تک پہنچتی ہے تو پہلے ہی دباؤ کا شکار اسٹاک مارکیٹس میں مزید بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔
جاپان کی 10 سالہ حکومتی بانڈ ییلڈ 3 فیصد سے اوپر رہی، جو 30 سال کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ آسٹریلیا کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ بڑھ کر 5.198 فیصد ہوگئی، جو 15 سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔
جرمنی کے بنڈ فیوچرز 0.45 فیصد گر کر 2011 کے بعد کم ترین سطح پر آگئے، جبکہ فرانسیسی او اے ٹی فیوچرز میں 0.5 فیصد کمی ہوئی اور وہ ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔
سیکسو کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چنانا نے کہا کہ بانڈ سرمایہ کار افراط زر، مالیاتی خطرات اور مارکیٹ میں آنے والے بھاری قرضوں کے باعث زیادہ رسک پریمیم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی 10 سالہ ییلڈ کے 5 فیصد تک پہنچنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے فائدہ اٹھانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اے آئی منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر بانڈز جاری کرنے نے بھی سرکاری بانڈ مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے۔
دوسری جانب بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1 فیصد اضافے سے 95.61 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
امریکی 2 سالہ ٹریژری ییلڈ بھی بڑھ کر 4.41 فیصد ہوگئی، جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ مارکیٹ میں یورپ میں آئندہ ہفتے اور امریکا میں اس کے اگلے ہفتے شرح سود بڑھنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان، برطانیہ اور فرانس کو بڑھتی ہوئی ییلڈز اور مالیاتی دباؤ کے باعث سب سے زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔