امریکی حملوں میں وقفے کے باوجود ایران جنگ بحیرہ احمر اور بحیرہ کیسپین تک پھیل گئی
- ایران کے خلاف اس کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے، امریکی فوج
امریکی حملوں میں عارضی وقفے کے باوجود ایران جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔ یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے یوکرین پر بحیرہ کیسپین میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران کے خلاف اس کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے، تاہم اس نے مسلسل 13 راتوں تک جاری فضائی حملوں میں اچانک وقفے کی وجہ نہیں بتائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے کی صورت میں اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملے مزید بڑھانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ میں توسیع سے امریکی دفاعی ذخائر کم ہو سکتے ہیں، خلیجی اتحادی ناراض ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے سعودی آرامکو کی جیزان اور ینبع میں واقع تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں جیزان ریفائنری کے قریب دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ ایشیائی تجارتی ذرائع نے ایندھن اور تیل ذخیرہ گاہوں کو ممکنہ نقصان کی اطلاعات دی ہیں۔ آرامکو نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ نے بھی یوکرین پر بحیرہ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ایک ملاح ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔ تہران نے یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ادھر یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فضائیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے، جبکہ دونوں فریقوں نے محاذوں پر اپنی افواج کی نقل و حرکت تیز کر دی ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔