وزیراعظم کی ایف بی آر کو کراچی کی تاجر برادری سے رابطے مضبوط بنانے کی ہدایت
- ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطے اور مسائل کے بلاتاخیر حل کے لیے ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کریں۔
جائزہ اجلاس کی صدات کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیڈرل ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کو ہدایت کی کہ وہ تاجر برادری کے ساتھ تعاون کرے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ تاجر برادری سے براہ راست رابطہ قائم ہوسکے اور ان کے مسائل بغیر کسی تاخیر کے حل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تاجر برادری کو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ پیداوار اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور سادہ بنانا ہے تاکہ تاجر برادری کا اعتماد بڑھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، موجودہ سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کا سال ہوگا۔
اجلاس میں ایف بی آر کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹائلز اور کھاد کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کے شعبوں میں تنصیب کا عمل جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ پروڈکشن مانیٹرنگ کی بدولت ایف بی آر گزشتہ ایک سال کے دوران چینی کی صنعت سے 42 ارب روپے اور سیمنٹ کی صنعت سے 38 ارب روپے اضافی ٹیکس کی مد میں وصول کر چکا ہے۔ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے مشروبات کی صنعت نے بھی 15 ارب روپے کا اضافی ٹیکس ریونیو جمع کرایا ہے۔