مالی سال 26: ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول
- جون میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.475 ارب ڈالر رہا، اسٹیٹ بینک
مالی سال 26 کے دوران (جولائی تا جون ) پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ حجم 38.3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.475 ارب ڈالر رہا۔
نمو کے لحاظ سے ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیادوں پر 18 فیصد کی کمی ہوئی تاہم سالانہ بنیادوں پر ان میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں نے اس سالانہ اضافے کی وجہ اسٹرکچر اور پالیسی عوامل کے امتزاج کو قرار دیا ہے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے کہا کہ یہ اضافہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور حوالہ/ہنڈی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد غیر رسمی ذرائع سے رسمی بینکنگ چینلز کی جانب مسلسل منتقلی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی 278 روپے کے قریب مستحکم قدر جس نے ترسیلات میں تاخیر یا انہیں دوسری طرف موڑنے کی ترغیب ختم کردی اور گزشتہ دو برس کے دوران خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کی جانب بڑھتی ہوئی ہجرت کے باعث ترسیلات بھیجنے والوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہیں۔
انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ترسیلاتِ زر کے مختلف ذرائع کے اعدادوشمار بھی اس وسیع بنیاد پر ہونے والے اضافے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں متحدہ عرب امارات سے آنے والی ترسیلات میں 12 فیصد، یورپی یونین سے 15 فیصد اور دیگر ممالک سے 20 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ حکومتی ترغیبی اسکیموں نے بھی پورے سال اس رجحان کو مزید تقویت دی۔
جے ایس گلوبل کیپٹل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں اضافہ، رسمی بینکنگ چینلز کی جانب مسلسل منتقلی اور مستحکم شرحِ مبادلہ جیسے ساختی عوامل نے سال بھر ترسیلاتِ زر کی آمد کو سہارا فراہم کیا ہے۔
اس دوران عارف حبیب لمیٹڈ کی شعبۂ تحقیق کی سربراہ ثنا توفیق نے کہا کہ شرح مبادلہ میں استحکام، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے نرخوں کے درمیان کم فرق اور غیر قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی کے خلاف انتظامی اقدامات نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو رسمی بینکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی کارکنوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بھی ترسیلاتِ زر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترسیلاتِ زر ملک کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
سعد حنیف نے کہا کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے ایک مضبوط سہارا بنی ہوئی ہیں جس نے تجارتی خسارے کو جو سالانہ بنیادوں پر 21.6 فیصد بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا مکمل طور پر جذب کر لیا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس (اضافی) میں رکھا ہوا ہے۔
اس صورتحال نے اسٹیٹ بینک کے ذخائر کو گزشتہ سال کے 13 ارب ڈالر سے بڑھا کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچانے میں مدد دی اور یہ سب کچھ بھاری قرضوں کی ادائیگی کے باوجود ممکن ہوا جس سے روپے کی قدر میں استحکام آیا اور مستقبل میں مانیٹری پالیسی کو نرم کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔
وقاص غنی نے بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی دباؤ بڑھنے کے باوجود ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کا مرکزی ستون بنی ہوئی ہیں۔
سعد حنیف نے کہا کہ اسٹیٹ بینک مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹنسز (ترسیلاتِ زر) کے 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کر رہا ہے جس میں اہم نکات یہ ہوں گے کہ خلیجی خطے میں تنازعہ وہاں کی لیبر مارکیٹ پر کیا اثر ڈالتا ہے اور آیا ترسیلات پر دی جانے والی مراعاتی اسکیمیں جاری رہتی ہیں یا ختم کر دی جاتی ہیں۔
مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر کہا کہ یہ تاریخی سنگِ میل بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان کے بیرونی سیکٹر کی لچک، زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر اور بہتر ہوتے معاشی بنیادی اصولوں کو تقویت دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026 ایک ریکارڈ کامیابی کا سال رہا جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ترسیلاتِ زر میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ دنیا بھر میں مقیم لاکھوں محنتی پاکستانیوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا تھا کہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق خطے میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی بحران کے باوجود مالی سال 26 میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ یعنی 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا۔
گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک نے ایک سرکاری مراعاتی اسکیم ختم کردی جس کے تحت بینکوں کو تار کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے اخراجات واپس کیے جاتے تھے۔
اسی طرح اسٹیٹ بینک نے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا جس سے وہ مراعاتی اسکیم ختم ہو گئی جو سمندر پار پاکستانیوں کو باضابطہ بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلاتِ زر بھیجنے پر انعام دیتی تھی۔
ترسیلاتِ زر کی تفصیلات
جون 2026 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے سب سے زیادہ یعنی 830 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں۔ یہ رقم گزشتہ سال اسی مہینے میں بھجوائی گئی 823 ملین ڈالر کے مقابلے میں 1 فیصد زیادہ ہے تاہم مئی 2026 میں ریکارڈ کی گئی 1,025 ملین ڈالر کی رقم کے مقابلے میں اس میں 19 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم میں سالانہ بنیادوں پر 10 فیصد اضافہ ہوا جو جون 2025 میں 717 ملین ڈالر سے بڑھ کر جون 2026 میں 792 ملین ڈالر ہو گئیں۔ تاہم ماہانہ بنیادوں پر ان میں 21 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
جون 2026 کے دوران برطانیہ سے آنے والی ترسیلاتِ زر 515 ملین ڈالر رہیں جو مئی کے 645 ملین ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہیں۔
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے جون میں 297 ملین ڈالر بھیجے جو مئی کے 349 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 15 فیصد کی کمی ہے۔
دریں اثنا یورپی یونین کے ممالک سے ترسیلاتِ زر جون میں 415 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جس میں مئی کے 466 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 11 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔