اسٹاک ایکسچینج میں تیزی مندی میں تبدیل، 100 انڈیکس 2 ہزار پوائنٹس سے زائد گرگیا
- صبح 11 بجکر 24 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 179,602.89 پوائنٹس پر آگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو مثبت آغاز کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث فروخت کا دباؤ ایک بار پھر لوٹ آیا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار پوائنٹس سے زائد گرگیا۔
صبح 11 بجکر 24 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,026.47 پوائنٹس یا 1.12 فیصد کی کمی سے 179,602.89 پوائنٹس پر آگیا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سی اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ حبکو، کے الیکٹرک، ماری، او جی ڈی سی ، پی پی ایل، پی ایس او ، ایس این جی پی ایل ، ایس ایس جی سی اور وافی بھی منفی زون میں دکھائی دیے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مالی سال 27-2026 میں پاکستان کی معاشی نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو کہ حکومت کے 4 فیصد کے ترقیاتی ہدف سے 0.5 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والی اپنی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں آئی ایم ایف نے مالی سال 26-2025 کے لیے بھی جی ڈی پی نمو کا اپنا 3.6 فیصد کا تخمینہ برقرار رکھا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج کو تاریخ کی شدید ترین گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں نئی جیو پولیٹیکل کشیدگی نے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس اور فروخت کو جنم دیا۔ ایران پر تازہ امریکی حملوں اور وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنے حصص فروخت کرکے سرمایہ کاری کم کرنے میں جلدی کی جبکہ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کردیا ۔
گزشتہ روز 100 انڈیکس 4,626.18 پوائنٹس یا 2.48 فیصد کی گراوٹ کے بعد 181,629.37 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ سیمی کنڈکٹرز کے شعبے کو شدید فروخت کے دباؤ سے کچھ مہلت ملی، اگرچہ خلیج میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی نے افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو پھر سے ہوا دے دی اور بانڈز کو متاثر کیا جس کی وجہ سے حصص کی قیمتوں میں اضافے کا عمل محدود رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ عارضی معاہدہ ختم ہو چکا ہے، تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے سیشن میں اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران پر دوسرے روز بھی تازہ حملے کیے حالانکہ بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مکمل جنگ کی واپسی کی توقع نہیں ہے جس سے خدشات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملی۔
برینٹ کروڈ آئل کے فیوچرز 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 78.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے اور اس ہفتے 9 فیصد اضافے کے ساتھ 22 جون کے بعد پہلی بار 80 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلے گئے۔
اس صورتحال نے عالمی بانڈ مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا اور ان قیاس آرائیوں میں اضافہ کر دیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فیڈرل ریزرو کو اس سال شرح سود بڑھانا پڑے گی۔ فیڈ فنڈز فیوچرز اب اس سال 38 بیسز پوائنٹس کی پالیسی سختی کی توقع ظاہر کر رہے ہیں جو کہ ایک ہفتہ پہلے والی سطح پر واپس آ گئی ہے۔
وال اسٹریٹ ابتدا میں ٹرمپ کے بیانات کے بعد نیچے گری لیکن سیشن کی نچلی ترین سطح سے سنبھل گئی جس میں نیس ڈیک نے 0.2 فیصد کا معمولی اضافہ حاصل کیا۔ چپ بنانے والی بڑی کمپنی این ویڈیا کے شیئرز میں 3.6 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ وہ میڈیا رپورٹس ہیں جن کے مطابق چین اپنی اعلیٰ ترین اے آئی کمپنیوں کو کمپنی کی H200 چپس کی محدود تعداد خریدنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر انڈیکس 0.8 فیصد بڑھ گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 2.3 فیصد اضافے کے ساتھ تین روزہ مسلسل گراوٹ کے سلسلے کو توڑنے میں کامیاب رہا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے