مارکٹس

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ، خام تیل کی قیمتیں مزید گرگئیں

  • برینٹ کروڈ 3.27 ڈالر یا 4.34 فیصد کی کمی کے بعد 71.99 ڈالر فی بیرل پر بند
شائع June 27, 2026 اپ ڈیٹ June 27, 2026 12:27pm

خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو 3 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی جس کے بعد تیل ہفتہ وار بنیادوں پر بڑی گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ اس کی وجہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کا مسلسل انخلا ہے جس نے اومان کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے کے اگلے ہی دن سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کردیا ہے۔

برینٹ کروڈ 3.27 ڈالر یا 4.34 فیصد کی کمی کے بعد 71.99 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.69 ڈالر یا 3.74 فیصد کی کمی کے ساتھ 69.23 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

گزشتہ جمعرات کو مارکیٹ بند ہونے کے بعد سے ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ انڈیکس میں 10.86 فیصد جب کہ ڈبلیو ٹی آئی میں 9.62 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ گزشتہ جمعہ کو عام تعطیل کے باعث مارکیٹ بند رہی تھی۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلین نے کہا کہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رہے گی۔

60 روزہ جنگ بندی معاہدے سے قبل منڈیوں کو خدشہ تھا کہ تیل کی رسد طلب سے کم پڑجائے گی، تاہم اب یہ خدشات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پی وی ایم کے تجزیہ کار تماس وارگا نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غالب رائے اب بھی یہ ہے کہ تیل کی سپلائی میں جلد ہی نمایاں اضافہ ہوگا۔

پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلین نے کہا کہ ہمیں تیل کی بھرمار دیکھنے کو ملے گی، میرا خیال ہے کہ یٹرولیم مصنوعات کی بھی بڑی مقدار منڈی میں آئے گی۔

تیل کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ کی بندش کے بعد جمعہ کو خلیج میں واقع اپنے راس تنورہ ٹرمینل پر تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔ ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق دو انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز جو 20 لاکھ بیرل تک تیل لادنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ٹرمینل پر خام تیل لوڈ کررہے تھے جبکہ ایک اور جہاز قریب انتظار میں کھڑا تھا۔

اسپارٹا کموڈیٹیز کی سینئر آئل مارکیٹ تجزیہ کار جون گوہ نے کہا کہ مارکیٹ میں عمومی فروخت کا رجحان دیکھا جارہا ہے کیونکہ سرمایہ کار آبنائے ہرمز سے تیل کی بڑھتی ترسیل اور چین کی جانب سے خام تیل کی طلب میں تاحال خاطر خواہ اضافے نہ ہونے پر ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔