دنیا

آبنائے ہرمز میں مال بردار جہاز پر حملے کے بعد امریکا کا ایران پر حملہ

  • دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کا مستقبل غیر یقینی کا شکار
شائع June 27, 2026 اپ ڈیٹ June 27, 2026 11:02am

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر ڈرون حملے کے جواب میں امریکی فوج نے جمعہ کو ایران پر حملہ کردیا جس سے حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ فضائی حملوں میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایک پروجیکٹائل اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے ساحل پر واقع شہر سیریک میں ایک گھاٹ کے قریب علاقے میں آ گرا۔

تاہم دوسری جانب پیشرفت کے آثار بھی سامنے آئے کیونکہ اسرائیل اور لبنان نے اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں فریقوں نے اس معاہدے کو ابتدائی قدم قرار دیا جس کے تحت حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کہا گیا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس معاہدے پر عملدرآمد کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تعاون نہیں کرے گی۔

ایران کی خلیجی ممالک کو تنبیہ

تہران نے اصرار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے گا اور خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز پر جمعرات کو ہونے والے حملے کے بعد واشنگٹن کا ساتھ نہ دیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

ایران نے امریکہ اور چھ خلیجی ریاستوں کے اس بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جسے اُس نے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ مذکورہ بیان میں اُس ایرانی دعوے کو مسترد کیا گیا ہے جس میں ایران نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول (محصول) وصول کرسکتا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو ایسے مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ایسے فیصلہ سازی کے نظام کے تحت یقینی نہیں بنایا جا سکتا جو ساحلی ریاست کے طور پر ایران کے کردار کو مدنظر نہ رکھتا ہو۔

خبر رساں ادارے بلوم برگ نیوز کے مطابق عمان جو آبنائے ہرمز کے دوسری جانب ایران کے مقابل واقع ہے نے اپنے اتحادیوں کو آگاہ کیا ہے کہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ممکنہ طور پر فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے، تاہم خبر رساں ادارہ رائٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ تین غیر ملکی آئل ٹینکرز جو اس کے بقول آبنائے ہرمز سے غیر مجاز گزر کی کوشش کررہے تھے کو آئی آر جی سی کی جانب سے وارننگ جاری کیے جانے کے بعد واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن ان رپورٹس کا جائزہ لے رہا ہے۔