دنیا

ایران اور امریکہ 60 دن میں حتمی معاہدے پر پہنچنے پر متفق،پاکستان قطر مشترکہ اعلامیہ

  • اعلامیے کے مطابق، ہفتے کے بقیہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں تمام امور پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے
شائع June 23, 2026 اپ ڈیٹ June 23, 2026 08:57am

ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید تکنیکی مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔ یہ بات پیر کو پاکستان اور قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیک وقت جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی۔

فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، ثالث ممالک کی معاونت سے، فریقین اور جمہوریہ لبنان کے درمیان ایک ڈی کنفلیکشن سیل قائم کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق، ہفتے کے بقیہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں تمام امور پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ ایم او یو کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو ثالثی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔

چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطح کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے تاکہ ایم او یو اور دیگر اتفاقات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں اختتام پذیر ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دو ثالث ممالک، ریاست قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

لیک لوسرن سمٹ مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کے دوران حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی، جس میں مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کی تشکیل بھی شامل ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کے حادثات یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے، ایم او یو کی شق 5 میں بیان کردہ مدت کے دوران فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

ثالث ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھتے رہیں اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

ریاست قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے تنازع کے پُرامن حل اور سفارتی عمل کے لیے امریکہ اور ایران کے مسلسل عزم کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ثالث ممالک نے دوست اور برادر ممالک کی جانب سے جاری مذاکرات کے لیے فراہم کی جانے والی حمایت اور مثبت کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

دریں اثنا، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطح تکنیکی مذاکرات میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی دوراندیش قیادت اور انتھک کوششوں پر مبارکباد پیش کی، جن کے نتیجے میں یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026