پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، ایران امریکا مذاکرات نئے مرحلے میں داخل

  • تاریخی امن معاہدے پر عمل درآمد کی کوششیں اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں
شائع June 21, 2026 اپ ڈیٹ June 21, 2026 12:36pm

وزیراعظم شہباز شریف اتوار کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ پہنچ گئے تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کر سکیں، جب کہ اس اہم امن معاہدے پر عمل درآمد کی کوششیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

وزیراعظم آفس کے بیان وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ زیورخ پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم آفس نے کہا تھا کہ وزیراعظم اور عسکری سربراہ ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں جو برگن اسٹاک جا رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان جمعرات کے روز دستخط شدہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی باضابطہ تکنیکی سطح کی ملاقات متوقع ہے۔

دوسری جانب دفترِ خارجہ نے بھی پاکستان کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سوئٹزرلینڈ نے برگن اسٹاک میں ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کیا۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی وفد امریکا اور ایران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے میں برگن اسٹاک پہنچ چکا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شرکت کے لیے واشنگٹن سے روانہ ہو گئے، جس سے ان مذاکرات کو امریکا کی جانب سے دی جانے والی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں جوہری مسئلے اور لبنان جنگ بندی کے معاملے پر پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ دونوں موضوعات مذاکرات کے اگلے مرحلے کی اہم ترین ترجیحات ہیں۔

21 جون کو ہونے والے ان مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی شریک ہوں گے۔ یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ہونے والی پہلی تکنیکی سطح کی بات چیت ہوگی۔

توقع ہے کہ مذاکرات میں معاہدے کے 60 روزہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا، جن میں تنازع کے خاتمے کے اقدامات، ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے امور شامل ہیں، تاکہ امن عمل کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھایا جا سکے۔