ایران کے حق میں نظر آنے والے معاہدے کے متن پر ٹرمپ برہم
- ایران کا اسرائیل سے حزب اللہ کے خلاف جارحیت فوری بند کرنے کا مطالبہ
خلیج میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے ایک مجوزہ معاہدے (یادداشت) کے متن نے سفارتی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ لیک ہونے والی شرائط بظاہر ایران کے حق میں دکھائی دیتی ہیں، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان رپورٹوں کو غلط قرار دیا ہے۔
پاکستان بطور ثالث اس عمل میں شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق متن ابھی حتمی نہیں ہے اور سب سے بڑا تنازع لبنان میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف جاری جارحیت کو روکنے کی ایرانی شرط پر ہے۔ لیک ہونے والے مسودے سے معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جبکہ امریکا کے اپنے اہم مطالبات جیسے ایران کے میزائل پروگرام پر پابندی اور یورینیم کے ذخائر کا خاتمہ اس متن کا حصہ نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ میڈیا کو لیک کی گئی شرائط کا تحریری طور پر طے پانے والے امور سے کوئی تعلق نہیں۔ ایرانی انتہائی ناقابلِ اعتبار لوگ ہیں۔دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدہ اب بہت قریب ہے، تاہم حتمی شکل اختیار کرنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
معاہدے کے تحت امریکا، ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے فوری بحال کرے گا اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائے گا، جس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرے گا۔ اگر فریقین میں اتفاق ہو گیا تو اتوار کو جنیوا میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اس پر دستخط کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جنگ میں امریکی اتحادی اسرائیل کو ان مذاکرات سے دور رکھا گیا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس معاہدے کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔