قطر کے ساحل کے قریب بحری جہاز پر ڈرون حملہ، وزارت دفاع کی تصدیق
- واشنگٹن کو تہران کے جواب کا انتظار، مذاکرات کے لیے تازہ ترین موقف سامنے رکھ دیا گیا
قطر کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ قطری پانیوں میں ایک تجارتی بحری جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
دیرینہ حریفوں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں خلیج میں تصادم اور الزامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ واشنگٹن اپنی تازہ ترین مذاکراتی پوزیشن پر تہران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
قطری وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اتوار کی صبح ابوظہبی سے آنے والے ایک تجارتی مال بردار جہاز کو جو ملک کے علاقائی سمندری حدود (مسعید بندرگاہ کے شمال مشرق) میں موجود تھا ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ لگی، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت نے ڈرون کی اصل جگہ کی تفصیلات فراہم کیے بغیر مزید کہا کہ آگ پر قابو پانے کے بعد جہاز نے مسعید بندرگاہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔
اس سے قبل برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بتایا تھا کہ دوحہ سے 23 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک بلک کیرئیر (بھاری مال بردار جہاز) کو نامعلوم گولے سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ وہاں معمولی آگ لگی تھی جسے بجھا دیا گیا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ماحول پر کسی اثر کی اطلاع ملی ہے۔
فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایران کی ’فارس نیوز ایجنسی‘ نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ قطر کے ساحل کے قریب نشانہ بننے والا مال بردار جہاز امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور اس کا تعلق امریکہ سے تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جمعہ کے روز ایک امریکی لڑاکا طیارے نے خلیجِ عمان میں ایرانی پرچم والے دو ٹینکرز کو ایران جانے سے روکنے کے لیے ناکارہ بنا دیا تھا۔ اس کے بعد ہفتے کے روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے اپنے ٹینکرز پر حملہ کیا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی ٹھکانوں اور دشمن کے جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔