لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع
- یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایک صحافی سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ لبنان اور اسرائیل نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایک صحافی سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں اسرائیل کے سفیر یچیئل لیٹر اور لبنان کی سفیر ندا معوض کی میزبانی کی، جہاں امریکی ثالثی میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ ملاقات مثبت رہی اور امریکا لبنان کو حزب اللہ کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
حزب اللہ، جو ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے اور اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار ہے، ان مذاکرات میں شریک نہیں تھی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اسے قابض افواج کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے خواہاں ہیں، اور انہیں امید ہے کہ تین ہفتوں کی اس جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ادھر لبنان نے آئندہ مذاکرات میں اسرائیلی افواج کے انخلا، قیدیوں کی واپسی اور سرحدی حد بندی جیسے معاملات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اصل توجہ حزب اللہ کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں جھڑپیں جاری ہیں، اور بدھ کا دن جنگ بندی کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں والا دن رہا۔ لبنان کے مطابق اب تک تقریباً 2,500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر قابض ہے۔