✕
دنیا

اسرائیل کا بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق، لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ

  • لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں کم از کم 1,500 افراد مارے اور 12 لاکھ دیگر بے گھر ہوچکے
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کو دو ہفتوں کیلئے معطل کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کردی ہے، تاہم وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بدھ کو واضح کیا کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکی اقدام کی حمایت کرتا ہے بشرطیکہ تہران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھول دے اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف حملے بند کردے۔

یہ ریمارکس واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کی معطلی کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جو کہ تنازع میں کمی لانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اسرائیل نے ایران کی جانب سے امریکہ، اسرائیل اور اپنے عرب پڑوسیوں کے لیے جوہری، میزائل یا دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی بھی حمایت کی ہے۔ اسرائیل کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن نے اسے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات میں مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

دوسری جانب ایران نے بدھ کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوگا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل دو ہفتوں کی جنگ بندی اور ایران پر بمباری روکنے پر رضامند ہوگیا ہے جب کہ اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیل کی فوجی مہم کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1,500 افراد مارے جاچکے ہیں اور 12 لاکھ سے زائد بے گھر ہوچکے ہیں۔

لبنان اس وقت مشرق وسطیٰ کی جنگ کی لپیٹ میں آیا جب حزب اللہ نے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے دو دن بعد تہران کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں اسرائیل پر راکٹ فائر کیے۔ حزب اللہ کے اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے نئی زمینی اور فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔