ایس ای سی پی کا پونزی اور پیرامڈ اسکیموں پر پابندی کے لیے نئے ضوابط جاری کرنے کا اعلان
- ایس ای سی پی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر معمولی یا یقینی منافع کا لالچ دینے والی سرمایہ کاری اسکیموں سے دور رہیں، خصوصاً ایسی اسکیموں سے جو نئے افراد کو شامل کرنے پر انعامات دیتی ہیں
پاکستان کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے مالی فراڈ اور گمراہ کن کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت پونزی اسکیموں، پیرامڈ اسکیموں، دھوکہ دہی پر مبنی ملٹی لیول مارکیٹنگ (ایم ایل ایم) اور غیر قانونی ریفرل مارکیٹنگ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایس ای سی پی نے کمپنیز ضوابط 2026 جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت ایسی اسکیموں کی نشاندہی اور ان پر پابندی کے لیے واضح معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ ان ضوابط کا اطلاق ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز اور سماجی رابطوں کے ذرائع سمیت روایتی اور ڈیجیٹل دونوں پلیٹ فارمز پر ہوگا۔
یہ ضوابط تمام کمپنیوں، بشمول غیر ملکی کمپنیوں پر بھی لاگو ہوں گے۔ ان کے تحت ایسے کاروباری طریقہ کار ممنوع قرار دیے گئے ہیں جن میں آمدنی کا بنیادی ذریعہ حقیقی مصنوعات کی فروخت کے بجائے نئے افراد کو شامل کرنا ہو۔
ان ضوابط میں ایسی سرگرمیاں بھی شامل ہیں جن میں نئے سرمایہ کاروں سے حاصل کی گئی رقم پہلے سے موجود شرکاء کو ادائیگی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر حقیقی یا یقینی منافع کے وعدے، غیر معمولی شمولیتی فیس، لازمی طور پر مصنوعات کی بڑی مقدار خریدنے کی شرط اور سرمایہ کاروں کی رقم کے استعمال کو خفیہ رکھنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت ایسی اسکیموں پر بھی پابندی ہوگی جن میں ایسی مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں جن کی مارکیٹ میں حقیقی طلب نہ ہونے کے برابر ہو یا بالکل موجود نہ ہو۔ اسی طرح آمدنی اور مصنوعات کے بارے میں گمراہ کن دعوے، رقم کی واپسی یا مصنوعات کی دوبارہ خریداری کے ناقص انتظامات اور غیر رجسٹرڈ، غیر منظور شدہ یا غیر قانونی اشیا کی فروخت بھی ممنوع ہوگی۔
پیرامڈ اسکیموں میں غیر واضح معاہدے، غیر معقول خریداری کی شرائط اور نئے افراد کو شامل کرنے کی بنیاد پر انعامات حاصل کرنے کے لیے متعدد رکنیتیں یا عہدے رکھنے کے طریقہ کار پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
تاہم ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ جائز براہ راست فروخت کے کاروبار بدستور جاری رہ سکیں گے، بشرطیکہ ان میں آمدنی کا بنیادی ذریعہ نئے افراد کو شامل کرنے کے بجائے آخری صارفین کو حقیقی مصنوعات فروخت کرنا ہو۔
یہ ضوابط پہلے سے موجود ایسی اسکیموں پر بھی لاگو ہوں گے جن میں غیر قانونی سرگرمیوں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، خواہ وہ روایتی طریقے سے کام کر رہی ہوں یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے۔ کمپنیوں کو ایسی سرگرمیوں کی تشہیر، ان کا انعقاد یا انہیں سہولت فراہم کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
ان ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں، ڈائریکٹرز اور افسران کے خلاف کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 512 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایس ای سی پی دیگر قانونی کارروائیاں بھی کر سکتا ہے، جن میں دفعہ 301 کے تحت کمپنیوں کو تحلیل کرنے کی کارروائی بھی شامل ہے۔
اس نوٹیفکیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ یہ ضوابط دھوکہ دہی پر مبنی کاروباری طریقوں اور مالی استحصال کے خلاف تحفظ کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
انہوں نے کہا ہمارا مقصد جائز کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور عوام کو غیر قانونی اسکیموں سے محفوظ رکھنا ہے، جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے چلائی جانے والی غیر قانونی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ یہ ضوابط پیشہ ورانہ اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دیے گئے ہیں۔
ایس ای سی پی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی سرمایہ کاری کی اسکیموں سے محتاط رہیں جو غیر معمولی زیادہ یا یقینی منافع کی پیشکش کرتی ہیں، خصوصاً وہ اسکیمیں جو نئے افراد کو شامل کرنے پر انعامات دینے کا وعدہ کرتی ہیں۔
ادارے نے سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی رقم کسی بھی کمپنی یا اسکیم میں لگانے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور رجسٹریشن کی تصدیق ضرور کریں۔





















Comments