BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
دنیا

جرمنی میں بھی جنریشن زی کے احتجاجی مظاہرے، ہالووین پر ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع

  • جرمنی کے 30 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا امکان
شائع اپ ڈیٹ

جرمنی میں بھی جنریشن زی کے زیرِ قیادت احتجاجی تحریک زور پکڑ رہی ہے، جہاں منتظمین کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد مظاہروں میں شریک ہوں گے۔ یورپ کے دیگر ممالک میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریکوں سے متاثر ہوکر شروع ہونے والے ان مظاہروں کا مقصد تعلیمی سہولتوں میں بہتری اور اخراجاتِ زندگی میں کمی کا مطالبہ کرنا ہے۔

یہ مظاہرے رواں سال یورپ بھر میں جنریشن زی کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے ملک کے دیرینہ رہنما کو انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے میں مدد دی، جبکہ فرانس میں مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے ہیں۔

جرمنی میں یہ مظاہرے ’جن زی ریگلٹ‘ (جنریشن زی معاملات سنبھالتی ہے) نامی مہم چلانے والے گروپ نے منظم کیے ہیں۔ ان کا انعقاد برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں ہوگا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ لازمی فوجی سروس کے خلاف ہے اور تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری چاہتا ہے، کیونکہ جرمنی کے بہت سے نوجوان بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے پریشان ہیں۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ہالووین کی تقریبات کے ساتھ ہونے والے ہفتے کے روز کے مظاہروں کے زیادہ تر پُرامن رہنے کی توقع ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند گروہ اس تحریک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی کے انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند حلقوں کے بعض عناصر اور بیرونِ ملک انتہا پسند تحریکوں سے منسلک کچھ گروہ مظاہروں کے لیے حمایت متحرک کرنے کی کوششوں میں شامل ہوچکے ہیں۔

ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے کہا ہے کہ ’’ہم سب کے ذہنوں میں فرانس کے وہ مناظر موجود ہیں—لوٹ مار، گھروں کو آگ لگانا، پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا اور پولیس اہلکاروں پر حملے۔‘‘ ہیسے کا دارالحکومت فرینکفرٹ جرمنی کا مالیاتی مرکز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس حوالے سے فرانس کو نمونے کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

برلن میں شاہانہ خریداری کے لیے مشہور کرفورسٹینڈام بولیوارڈ پر واقع بعض کاروباری مراکز نے ممکنہ ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر مظاہروں سے قبل اپنی دکانوں کی کھڑکیوں پر لکڑی کے تختے لگا دیے اور جلد بندش کا منصوبہ بنایا ہے۔

جنریشن زی نے باگ ڈور سنبھال لی

تاہم مظاہروں کے منتظمین کی توجہ ان مسائل پر ہے جنہیں وہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں نوجوان نسل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سبب سمجھتے ہیں۔

میونخ میں ایک ریلی سے خطاب کرنے والے 18 سالہ اسٹیو نے چانسلر فریڈرک مرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت نے ہمارے خدشات کا جواب دینے کے بجائے اخراجات میں کٹوتیاں جاری رکھی ہیں اور ہم پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔‘‘

اس نے کہا کہ ’’جب تک آپ ہمیں نظر انداز کرنا بند نہیں کرتے، ہم اجتماع کے اپنے بنیادی حق کا استعمال جاری رکھیں گے۔‘‘

یہ مظاہرے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب جرمنی کو معاشی ترقی کی بحالی میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے والی بیبی بومر نسل اور افرادی قوت میں شامل عمر کے لوگوں کی تعداد گھٹنے کے باعث پنشن اور عوامی خدمات کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

تاہم اس مہم کی قیادت کون کررہا ہے اور آیا یہ واقعی نوجوانوں کی تحریک ہے یا نہیں، اس بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ اس میں مختلف سیاسی اور سول سوسائٹی کے گروہ شامل ہیں۔

جرمنی کی قومی سطح کی طلبہ تنظیم بی ایس کے نے اس مہم سے لاتعلقی ظاہر کردی ہے اور 20 نومبر کو احتجاج کا الگ دن منانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

بی ایس کے کی سیکریٹری جنرل ایمی کرخوف نے جمعرات کے روز کہا کہ ’’ہم ’جن زی ریگلٹ‘ سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں، تاہم طلبہ سے نہیں، جن کے خدشات جائز ہیں۔‘‘

برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طالب علم شان بیکر نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں شرکت کریں گے تاکہ یونیورسٹی کیمپس کی عمارتوں کی خستہ حالی کی جانب توجہ دلائی جاسکے۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’جب آپ اندر داخل ہوکر کمروں میں جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی ویران عمارت میں آگئے ہوں۔ حالانکہ ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم یہاں باقاعدگی سے تعلیم حاصل کریں۔‘‘

Comments

200 حروف