پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا معاملہ لارجر بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیا
- پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ خیبر پختونخوا کے گورنر اور ان کی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کو نظرانداز کیا
پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے خیبر پختونخوا کے غیر فعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی ارکان اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی حراست سے متعلق مقدمہ لارجر بینچ کے روبرو سماعت کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے۔ پارٹی نے منگل کے روز یہ بات کہی ہے۔
پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم علی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ اس معاملے کا تعلق 11 اکتوبر اور اس سے قبل حراست میں لیے گئے افراد سے تھا، جن میں سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، جنید اکبر خان، ڈاکٹر امجد خان، ڈاکٹر امجد علی، اکرام غازی اور اقبال آفریدی کے علاوہ صوبائی و قومی اسمبلی کے دیگر ارکان، یوتھ ونگ کے رہنما اور پارٹی کارکن شامل ہیں۔
پارٹی کے مطابق عدالت نے حکام کو حراست میں لیے گئے افراد سے متعلق رپورٹ 30 اکتوبر تک جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، تاہم گورنر کی انتظامیہ عدالتی حکم پر عمل درآمد میں ناکام رہی۔ منگل کے روز گورنر کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کے بجائے مزید تین روز کی مہلت طلب کرلی۔
پی ٹی آئی نے مقدمے کی نوعیت کو سنگین قرار دیتے ہوئے اس کی سماعت 13 روز بعد مقرر کرنے پر بھی عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ عدالت نے مزید کارروائی کرنے کے بجائے معاملہ لارجر بینچ کے روبرو سماعت کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے۔
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ گورنر اور ان کی انتظامیہ عدالتی احکامات کو نظرانداز کر رہے ہیں، جبکہ عدالت پر بھی مقدمے کی سماعت بار بار مؤخر کرنے کا الزام لگایا۔





















Comments