BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
رائے

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار: ترجیح صرف کاغذوں تک محدود

  • ”چھوٹے کاروباری اداروں اور کاشتکاروں کو تقریروں میں ترجیح قرار دے کر معاشی پالیسی میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔“
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان وسیع البنیاد معاشی ترقی صرف بڑے کاروباری اداروں، میگا منصوبوں اور وقتاً فوقتاً قرضوں کی فراہمی کے اعلانات کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتا۔

چھوٹے کاروباری ادارے اور چھوٹے کاشتکار روزگار، برآمدات اور دیہی خوشحالی کے فروغ میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم کئی دہائیوں پر محیط پالیسی اعلانات کے باوجود ان شعبوں میں ڈھانچہ جاتی سطح پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اب مسئلہ ان کی اہمیت تسلیم نہ کیے جانے کا نہیں بلکہ اس اعتراف کو ادارہ جاتی استعداد، قابل رسائی مالی وسائل اور مسلسل معاشی مواقع میں تبدیل کرنے میں ناکامی کا ہے۔

وزیراعظم، وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور چھوٹے کاشتکاروں کی مالی معاونت پر دوبارہ توجہ دینا خوش آئند ہے۔ تاہم زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جن شعبوں کو بارہا قومی ترجیحات قرار دیا گیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے عمل میں اب تک ثانوی حیثیت کیوں رکھتے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ’فنانس تک رسائی کی اسٹیئرنگ کمیٹی‘ کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایس ایم ایز اور زراعت سمیت ترجیحی شعبوں کے لیے سستے اور جامع مالی وسائل کی فراہمی میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اسٹیٹ بینک نے بھی تھوک مالی معاونت اور ایجنسی انتظامات کے تحت چھوٹے کاروباری اداروں اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مالی معاونت کا ایک فریم ورک متعارف کرایا ہے، جسے حکومت کی ’رسک کوریج سہولت‘ کی معاونت حاصل ہے۔

دوسری جانب زرعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی سامنے آتی رہی ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی کاروباری وفد کے لاہور کے دورے کے دوران پنجاب کے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے مواقع تلاش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

یہ اقدامات نئے مواقع فراہم کرسکتے ہیں، لیکن اعلانات، اجلاسوں اور مالی معاونت کے فریم ورک کو معاشی نتائج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ چھوٹے کاروباری اداروں اور کاشتکاروں کی اہمیت تسلیم کرنے کے اعلانات سے بھری پڑی ہے، مگر ان کی ترقی کے لیے درکار سازگار نظام تشکیل دینے میں مسلسل ناکامی رہی ہے۔

اصل کمی چھوٹے کاروباروں کے لیے عملی اقدامات کرنے کے حکومتی عزم اور ان پر عمل درآمد کی ہے۔

چھوٹے کاروباری اداروں کو کئی روایتی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں سستے قرضوں تک محدود رسائی، ناکافی ضمانتیں، پیچیدہ دستاویزی تقاضے، ضابطوں پر عمل درآمد کے بھاری اخراجات، ٹیکسوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور ٹیکنالوجی و منڈیوں تک محدود رسائی شامل ہیں۔

بہت سے کاروباری اداروں کے لیے رسمی مالیاتی ذرائع سے قرض حاصل کرنا بدستور انتہائی مشکل ہے۔ بینک اپنے خطرات اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے پیش نظر عموماً ایسے مستحکم قرض گیروں کو ترجیح دیتے ہیں جن کے مالیاتی لین دین کا باقاعدہ ریکارڈ اور قابل قبول ضمانتیں موجود ہوں۔

نتیجتاً جن کاروباری اداروں کو مالی معاونت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، وہی اسے حاصل کرنے کی صلاحیت سے سب سے کم بہرہ مند ہوتے ہیں۔

خطرات میں شراکت کی سہولتیں اس عدم توازن کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے نتیجے میں قرضوں کی حقیقی فراہمی بڑھے، نہ کہ صرف مالیاتی اداروں کو ممکنہ نقصانات سے تحفظ ملے۔

تھوک مالی معاونت اور ایجنسی انتظامات کے ذریعے شریک اداروں کی رسائی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں مالیاتی سہولتیں ناکافی ہیں۔ تاہم ان انتظامات کی افادیت کا تعین اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ کتنے قابل عمل کاروباری اداروں اور کاشتکاروں کو مالی معاونت ملی، قرضوں کی لاگت کتنی رہی، قرضوں کی واپسی کا تناسب کیا رہا اور اس سے کتنی معاشی سرگرمی پیدا ہوئی۔

زراعت کے معاملے میں بھی یہی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ چھوٹے کاشتکار محض ایسے قرض گیروں کا نام نہیں جنہیں موسمی ضروریات کے لیے قرض درکار ہوتا ہے۔ انہیں معیاری بیجوں، کھادوں، جدید مشینری، پانی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجی، ذخیرہ کرنے کی سہولتوں، زرعی پیداوار کی پراسیسنگ اور مسابقتی منڈیوں تک قابل اعتماد رسائی بھی درکار ہے۔ ان معاون سہولتوں کے بغیر قرضوں سے پیداوار کا ایک اور دور تو مکمل ہوسکتا ہے، لیکن فی ایکڑ پیداوار یا آمدنی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آتی۔

چنانچہ حکومت کو زرعی مالی معاونت کے محدود تصور، یعنی صرف قرضوں کی تقسیم، سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ مالی وسائل کی فراہمی کا مقصد کم پیداواری صلاحیت والی گزر بسر کی کاشتکاری کو تجارتی بنیادوں پر چلنے والی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ زراعت میں تبدیل کرنے میں معاونت ہونا چاہیے۔ لائیو اسٹاک، ڈیری، باغبانی اور غذائی اجناس کی پراسیسنگ کے شعبوں میں دیہی روزگار اور پیداوار کی قدر میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں، بشرطیکہ کاشتکار منظم سپلائی چین کا حصہ بن سکیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مجوزہ روابط سرمایہ کاری، مہارت اور منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم صرف اجلاسوں اور ملاقاتوں سے غیر ملکی سرمایہ کار اس شعبے کی کایا نہیں پلٹ سکتے۔ سرمایہ کاری کے لیے قابل پیش گوئی پالیسیاں، تجارتی لحاظ سے قابل عمل منصوبے، شفاف ضابطے اور قابل اعتماد بنیادی ڈھانچہ ضروری ہیں۔

اسی طرح شراکت داریوں کا فائدہ صرف چند بڑے سرمایہ کاروں تک محدود رہنے کے بجائے مقامی کاشتکاروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی، پراسیسنگ کی صلاحیت اور برآمدی منڈیوں سے جوڑنے کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔

شاید ادارہ جاتی سطح پر سب سے نمایاں ناکامی اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی محدود افادیت ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ایس ایم ای شعبے کی ترقی کے لیے قائم کی گئی اس اتھارٹی کو صنعتی پالیسی کا ایک مرکزی ذریعہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم یہ اب تک ایسا متحرک اور بااختیار ادارہ نہیں بن سکی جو ملک میں چھوٹے کاروباروں کے منظرنامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

سمیڈا کو کاروباری اداروں کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے، ان کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے، مالی وسائل تک رسائی حاصل کرنے، برآمدی صلاحیت بڑھانے اور ملکی و بین الاقوامی سپلائی چین میں شامل ہونے میں مدد دینی چاہیے۔ اسے مختلف شعبوں میں مخصوص کاروباری مواقع کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے اور عملی کاروباری مشکلات دور کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں، بینکوں، صنعتی انجمنوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

اس کے برعکس یہ شعبہ بدستور مختلف اور منتشر اقدامات پر انحصار کررہا ہے، جبکہ قومی سطح پر ترقی کے لیے کوئی ایسا مسلسل، نمایاں اور قابل پیمائش منصوبہ دکھائی نہیں دیتا جس کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جاسکے۔

اس ناکامی کے اثرات انفرادی کاروباری اداروں تک محدود نہیں رہتے۔ ایس ایم ایز برآمدات میں تنوع پیدا کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور معاشی ارتکاز کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے کاشتکار غذائی تحفظ مضبوط بنانے، دیہی آمدنی بڑھانے اور ملکی صنعت کو زرعی خام مال فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان شعبوں کی ترقی سے ٹیکس نیٹ قدرتی طور پر وسیع ہوگا، ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے محدود تعداد میں قائم شدہ اداروں پر انحصار کم ہوگا اور معاشی ترقی کے ثمرات زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم ہوں گے۔

پاکستان میں پالیسی دستاویزات، کمیٹیوں یا ارادوں کے اعلانات کی کمی نہیں۔ اصل فقدان ادارہ جاتی تسلسل، عمل درآمد میں نظم و ضبط اور جوابدہی کا ہے، جو ان اعلانات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

حکومت کو ایس ایم ایز کے لیے مالی معاونت، پیداواری صلاحیت، کاروباروں کو باضابطہ معیشت میں شامل کرنے، روزگار اور برآمدات کے قابل پیمائش اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ کاشتکاروں کی آمدنی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے اہداف بھی طے کیے جانے چاہئیں۔

چھوٹے کاروباری اداروں اور چھوٹے کاشتکاروں کو تقریروں میں ترجیح قرار دے کر معاشی پالیسی میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی معاشی بحالی اس وقت تک محدود اور غیر مستحکم رہے گی جب تک نچلی سطح پر پیداوار، روزگار اور قدر میں اضافے کا ذریعہ بننے والے طبقات کو ملکی ترقی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت نہیں دی جاتی۔ حکومت کی نئی توجہ کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی بار معاونت کے اعلانات کرتی ہے بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ بالآخر عملی طور پر ترقی کے نتائج فراہم کر پاتی ہے یا نہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف