ڈارک ویب سے ایک سال میں سائبر خطرات کے 326 واقعات کی نشاندہی، ویب سائٹس پر حملے سرفہرست
- ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات شناخت شدہ خطرات کا 27 فیصد تھے، رپورٹ
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک سال کے دوران ڈارک ویب مانیٹرنگ سے سائبر خطرات سے متعلق 326 اہم واقعات اور اشاریوں کی نشاندہی کی، جن میں 174 ویب سائٹس ڈیفیسمنٹ، ڈیٹا لیک ہونے کے 87 واقعات اور ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (ڈی ڈی او ایس) حملوں سے متعلق 41 خطرات شامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار پاکستان کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں موجود سیکیورٹی کی مسلسل کمزوریوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کی سائبر سیکیورٹی سالانہ رپورٹ 2025-26 کے مطابق، ویب سائٹس ڈیفیسمنٹ سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا سائبر خطرہ تھا جو جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن سیکیورٹی آپریشنز سینٹر (این ٹی ایس او سی) کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے خطرات کے مجموعی اشاریوں کا 53 فیصد تھا۔
رپورٹ کے مطابق ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات شناخت شدہ خطرات کا 27 فیصد تھے، جبکہ ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) سے متعلق واقعات کا تناسب 13 فیصد رہا۔ مزید 24 واقعات، یعنی سات فیصد، میں ڈارک ویب فورمز اور غیر قانونی آن لائن مارکیٹ پلیسز پر حساس معلومات کی تشہیر یا فروخت کے معاملات شامل تھے۔
رپورٹ میں ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات کے ذریعے افشا ہونے والی چوری شدہ لاگ اِن تفصیلات اور اداروں کی معلومات کو نمایاں کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر ان معلومات کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔
ویب سائٹس ڈیفیسمنٹ بدستور سائبر خطرات کی سب سے نمایاں قسم رہی، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس سے متعلق خطرات نے انٹرنیٹ سے منسلک نظاموں اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں خلل ڈالے جانے کے خدشات کو اجاگر کیا۔
پی ٹی اے نے کہا کہ ڈارک ویب سے متعلق معلومات کی مسلسل نگرانی نے نئے ابھرتے سائبر خطرات، متاثرہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ایسی بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے کی اس کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے، جو نگرانی کے روایتی طریقۂ کار کے ذریعے سامنے نہ آ پاتیں۔
این ٹی ایس او سی ڈارک ویب فورمز، غیر قانونی آن لائن مارکیٹ پلیسز، تجارتی سائبر خطرات سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز اور اوپن سورس انٹیلی جنس چینلز کی نگرانی کرتا ہے تاکہ متاثرہ ڈیجیٹل اثاثوں، ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات، ویب سائٹس ڈیفیسمنٹ اور دیگر بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کی نشاندہی کی جا سکے جو ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے اور اہم معلوماتی انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ان ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو سائبر خطرات سے متعلق دیگر انٹیلی جنس ذرائع سے ملنے والی معلومات کے ساتھ یکجا کرکے ان خطرات کے پس منظر اور نوعیت کا تعین کیا جاتا ہے، ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مزید تحقیقات اور تدارک کے لیے قابلِ عمل نتائج کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
رپورٹ میں جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران رپورٹنگ کی مدت میں یو آر ایل، ایپلی کیشنز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیے جانے کے رجحانات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
نگرانی کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2025 میں بلاک کیے جانے کے لیے نشان زد کیے گئے یو آر ایل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد آنے والے مہینوں میں اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹنگ کی مدت کے بیشتر حصے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے اشاریے، یو آر ایل اور ایپلیکیشنز کو بلاک کرنے کے اعدادوشمار کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ رہے۔
پی ٹی اے نے کہا کہ ڈیپ ویب اور ڈارک ویب ذرائع، تجارتی سائبر خطرات سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز اور اوپن سورس انٹیلی جنس چینلز کی مسلسل نگرانی سے سائبر خطرات کی بہتر شناخت ممکن ہوئی۔ اس عمل سے مختلف ذرائع کے ذریعے بدنیتی پر مبنی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ابھرتےخطرات اور سیکیورٹی میں نقب لگنے کے شواہد کی نشاندہی میں بھی مدد ملی۔
رپورٹ کے نتائج پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل خدمات کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانے، کمزوریوں کی بروقت نشاندہی کرنے اور حساس معلومات کے افشا ہونے کے خدشات محدود کرنے کے لیے سائبر خطرات سے متعلق پیشگی انٹیلی جنس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔






















Comments