سپلائی میں تعطل کے باوجود پی ایس او کا منافع 172 فیصد بڑھ کر 25.6 ارب روپے ہوگیا
- سہ ماہی کے دوران پی ای پی ایس او کی فی حصص آمدن 54.44 روپے رہی
پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں بعد از ٹیکس منافع میں سالانہ بنیادوں پر 172 فیصد اضافہ رپورٹ کیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 9.39 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 25.56 ارب روپے ہوگیا۔ منافع میں یہ اضافہ فروخت کے حجم میں اضافے اور مصنوعات کے بہتر امتزاج کے باعث ہوا۔
جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنی کی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 17.8 فیصد اضافہ ہوا جو صنعت کی مجموعی 7.1 فیصد نمو سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں کمپنی کے مارکیٹ شیئر میں 4.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ بڑھ کر 45.9 فیصد ہوگیا۔
سہ ماہی کے دوران پی ایس او کی فی حصص آمدن (ای پی ایس) 54.44 روپے رہی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 20 روپے تھی۔
گروپ کی مجموعی مالی کارکردگی کے لحاظ سے، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) کے منافع سمیت پی ایس او کا مجموعی بعد از ٹیکس منافع میں حصہ 29.42 ارب روپے رہا جبکہ فی حصص آمدن 62.66 روپے ریکارڈ کی گئی۔
پی ایس او کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جواد احمد چیمہ نے کہا کہ اس سہ ماہی کے دوران پی ایس او کی فروخت میں مارکیٹ کی رفتار سے دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا جبکہ کمپنی نے حالیہ برسوں میں علاقائی سپلائی کے شدید ترین تعطل کے ادوار میں سے ایک کے دوران بھی پاکستان بھر میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنائے رکھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم خریداری کے ذرائع کو وسعت دے کر مقامی ریفائنریوں سے سپلائی سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اور بیرونی تعطل کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نظام تشکیل دے کر اپنی سپلائی چین کو مستحکم کررہے ہیں۔
پی ایس او نے اہم مصنوعات کے شعبوں میں فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ موٹر گیسولین (پیٹرول) کی فروخت 23.2 فیصد بڑھ کر 9 لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن ہوگئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت 12.8 فیصد اضافے کے ساتھ 7 لاکھ 59 ہزار میٹرک ٹن رہی حالانکہ ملک میں ڈیزل کی مجموعی طلب میں کمی آئی۔
طیاروں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی فروخت میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جیٹ اے ون (Jet A-1) کی مارکیٹ میں پی ایس او نے 99.6 فیصد سپلائی فراہم کی۔ اسی طرح لبریکنٹس کی فروخت 17.4 فیصد اضافے کے ساتھ 9,970 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔
علاقائی سپلائی روٹس پر دباؤ کے باوجود پی ایس او نے پیٹرولیم مصنوعات کے 16 بحری کارگو درآمد کیے جن کا مجموعی حجم 7 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن تھا۔ اس کے علاوہ مقامی ریفائنریوں سے 10 لاکھ 19 ہزار میٹرک ٹن موٹر گیسولین اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حاصل کیا۔
سہ ماہی کے دوران پی ایس او نے پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی طویل مدتی سپلائی کے پورٹ فولیو کا انتظام بھی سنبھالا۔
سہ ماہی کے اختتام کے بعد پی ایس او نے عمان کی کمپنی او کیو ٹریڈنگ کے ساتھ حکومت سے حکومت کی سطح پر فروخت و خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے سے پاکستان کے لیے ایندھن کی خریداری کے ذرائع میں وسعت آئے گی اور توانائی کی سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
پی ایس او نے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ کمپنی بدلتے ہوئے توانائی کے منظرنامے سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب پیش رفت کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے۔






















Comments