BR100 Increased By (0.69%)
BR30 Increased By (0.9%)
KSE100 Increased By (0.79%)
KSE30 Increased By (0.74%)
BAFL 56.00 Increased By ▲ 0.29 (0.52%)
BIPL 23.55 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
BOP 27.40 Increased By ▲ 0.18 (0.66%)
CNERGY 12.35 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 16.13 Increased By ▲ 0.07 (0.44%)
DGKC 184.25 Increased By ▲ 2.81 (1.55%)
FABL 90.30 Increased By ▲ 0.56 (0.62%)
FCCL 52.02 Increased By ▲ 0.41 (0.79%)
FFL 13.07 Decreased By ▼ -0.01 (-0.08%)
GGL 19.15 Increased By ▲ 0.10 (0.52%)
HBL 282.87 Increased By ▲ 0.75 (0.27%)
HUBC 188.75 Increased By ▲ 0.44 (0.23%)
HUMNL 8.20 Increased By ▲ 0.14 (1.74%)
KEL 5.73 Increased By ▲ 0.08 (1.42%)
LOTCHEM 22.74 Increased By ▲ 0.23 (1.02%)
MLCF 90.40 Increased By ▲ 1.57 (1.77%)
OGDC 301.30 Increased By ▲ 0.38 (0.13%)
PAEL 32.54 Increased By ▲ 0.14 (0.43%)
PIBTL 12.98 Increased By ▲ 0.09 (0.7%)
PIOC 232.00 Increased By ▲ 4.72 (2.08%)
PPL 214.75 Increased By ▲ 2.39 (1.13%)
PRL 96.70 Increased By ▲ 0.99 (1.03%)
SNGP 89.50 Decreased By ▼ -0.23 (-0.26%)
SSGC 22.60 Increased By ▲ 0.07 (0.31%)
TELE 6.65 Increased By ▲ 0.10 (1.53%)
TPLP 11.55 Increased By ▲ 0.04 (0.35%)
TRG 53.93 Increased By ▲ 0.25 (0.47%)
UNITY 7.73 Increased By ▲ 0.03 (0.39%)
WTL 0.91 Increased By ▲ 0.03 (3.41%)
کاروبار اور معیشت

حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گی، وفاقی وزیر

  • جنوبی بلوچستان کے 12 اضلاع میں 25 ہزار نوجوانوں کی نشاندہی، ابتدائی مرحلے میں 6 سے 7 ہزار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا منصوبہ
شائع اپ ڈیٹ

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود نے کراچی کی کاروباری برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں بے روزگاری، غربت اور بدامنی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومت کے ساتھ شراکت داری کرے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی بلوچستان کے 12 اضلاع میں شناخت کیے گئے 25 ہزار نوجوانوں کے لیے شروع کیے جانے والے پائلٹ منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 6 ہزار سے 7 ہزار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں مدد دی جائے گی جبکہ باقی نوجوانوں کو فنی تربیت اور روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

کراچی چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود نے کہا کہ پاکستان ایک فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے اور عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے مواقع ملک کی معاشی اور تزویراتی حیثیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پسماندہ اور حساس علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

اجلاس میں چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا، وائس چیئرمینز بی ایم جی انجم نثار اور جاوید بلوانی، صدر کے سی سی آئی طلعت محمود، سینئر نائب صدر کے سی سی آئی اسلم پکھالی، نائب صدر کے سی سی آئی عاطف جمیل الرحمٰن، نیوٹیک کی سربراہ نادیہ کریم شاہ، سیکریٹری ٹی ڈی اے پی شہریار تاج، صدر بزنس فورم مسلم لیگ (ن) مرزا اشتیاق بیگ، کے سی سی آئی کی مینجنگ کمیٹی کے اراکین اور نیوٹیک کے سینئر افسران نے شرکت کی.

رانا مشہود نے مزید کہا کہ حکومت نے پاکستان اور اس کے آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن سرمایہ کاری، صنعتی وسعت اور کاروباری ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہم کب تک اپنے جوانوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے اور کب تک ملک دہشت گردی کا شکار ہوتا رہے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ معاشی مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ محرومیوں کا خاتمہ ہو اور نوجوان ریاست مخالف عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے سے محفوظ رہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کا صنعتی اور تجارتی شعبہ پاکستان کی صنعتی سرگرمیوں، محصولات، جدت اور معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس قومی اقدام کی کامیابی میں اس کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کے سی سی آئی اور اس کے رکن اداروں پر زور دیا کہ وہ روزگار کے مواقع کی نشاندہی کریں، اپنی افرادی قوت کی ضروریات حکومت کو بتائیں اور ایسے تربیتی پروگراموں کی تیاری میں تعاون کریں جن کے ذریعے نوجوانوں کو صنعت کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہنر سکھائے جا سکیں۔

رانا مشہود نے بتایا کہ اس پروگرام میں وفاقی اور صوبائی اداروں کو شریک کیا جائے گا، جن میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن صوبائی فنی تعلیم و تربیت کے ادارے، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پاکستان بیت المال، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور دیہی معاونت کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مؤثر اور عملی نتائج یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں اور کاروباری تنظیموں کے ساتھ بھی رابطہ کاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ متعلقہ شعبے کےمطابق تربیتی کورسز عموماً تین سے چھ ماہ پر مشتمل ہوں گے، جن میں فنی تربیت، سرٹیفکیشن، پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اخلاقیات اور شہری ذمہ داری سے متعلق تربیت بھی شامل ہوگی۔جہاں مناسب سہولیات دستیاب ہوں گی، وہاں بلوچستان ہی میں تربیت کا انتظام کیا جائے گا جبکہ سندھ کے منتخب اداروں اور جامعات سے بھی تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ تربیتی گنجائش بڑھانے اور ضرورت کے مطابق رہائش و طعام کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد مل سکے۔

چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تربیت دینے کے ساتھ صنعتی بحالی اور سرمایہ کاری کے لیے ایک جامع پیکیج بھی ضروری ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پیداواری لاگت کم کی جائے، توانائی کے شعبے کی خامیوں کو دور کیا جائے اور برآمدات کے لیے مسابقتی ماحول بہتر بنایا جائےانہوں نے بلوچستان کے تربیت یافتہ نوجوانوں کو ملازمت دینے والے اداروں کے لیے جزوی اجرتی معاونت سمیت مراعات تجویز کیں اور ماہی گیری، سمندری خوراک کی پراسیسنگ اور زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کو روزگار اور برآمدات بڑھانے کے اہم شعبے قرار دیا۔

Comments

200 حروف