BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.2%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.56%)
BAFL 55.71 Increased By ▲ 0.20 (0.36%)
BIPL 23.52 Decreased By ▼ -0.45 (-1.88%)
BOP 27.22 Decreased By ▼ -0.08 (-0.29%)
CNERGY 12.30 Decreased By ▼ -0.10 (-0.81%)
DFML 16.06 Increased By ▲ 0.27 (1.71%)
DGKC 181.44 Increased By ▲ 5.86 (3.34%)
FABL 89.74 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
FCCL 51.61 Increased By ▲ 1.96 (3.95%)
FFL 13.08 Decreased By ▼ -0.28 (-2.1%)
GGL 19.05 Increased By ▲ 0.36 (1.93%)
HBL 282.12 Decreased By ▼ -1.14 (-0.4%)
HUBC 188.31 Increased By ▲ 0.45 (0.24%)
HUMNL 8.06 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
KEL 5.65 Increased By ▲ 0.10 (1.8%)
LOTCHEM 22.51 Decreased By ▼ -0.53 (-2.3%)
MLCF 88.83 Increased By ▲ 2.20 (2.54%)
OGDC 300.92 Increased By ▲ 2.80 (0.94%)
PAEL 32.40 Increased By ▲ 0.35 (1.09%)
PIBTL 12.89 Increased By ▲ 0.34 (2.71%)
PIOC 227.28 Increased By ▲ 3.11 (1.39%)
PPL 212.36 Increased By ▲ 2.19 (1.04%)
PRL 95.71 Increased By ▲ 1.19 (1.26%)
SNGP 89.73 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
SSGC 22.53 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 6.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.65%)
TPLP 11.51 No Change ▼ 0.00 (0%)
TRG 53.68 Increased By ▲ 1.14 (2.17%)
UNITY 7.70 Increased By ▲ 0.08 (1.05%)
WTL 0.88 Decreased By ▼ -0.01 (-1.12%)
پاکستان

افغان طالبان کے الزامات مسترد، پاکستان کا حقِ دفاع استعمال کرنے کا عزم

  • 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پاکستان میں 3,500 سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے، دفتر خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اس کی کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گرد گروہ اور ان کے رسدی مراکز تھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پاکستان میں 3,500 سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے۔

پیر کو جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے فتنۃ الخوارج قرار دیا گیا ہے، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جسے فتنۃ الہندوستان کہا گیا ہے، اور ان سے وابستہ گروہوں کو پناہ فراہم کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، نے بھی افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان سرزمین سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر کوئی ذمہ دار ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت اور آخری چارہ کار کے طور پر کی گئیں۔ یہ اقدامات خطرے کے تناسب سے تھے اور ان میں اہداف کے تعین اور احتیاط کے اصولوں کی پابندی کی گئی۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد اور افغان سرزمین کو دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا پابند بنائے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں دہشت گردی کا معاملہ مسلسل کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ اسلام آباد متعدد بار کابل سے ٹی ٹی پی سمیت پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کر چکا ہے، تاہم سرحد پار حملوں اور الزامات کے تبادلے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔

Comments

200 حروف