خالی پیٹ ترقی کے دعوے
- تخمینے کے مطابق رواں سال 10.6 ملین یعنی 1 کروڑ 6 لاکھ پاکستانیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی
پاکستان کا ایک بار پھر دنیا میں بھوک کے شدید ترین بحرانوں سے دوچار ممالک میں شامل ہونا حکومت کے لیے اقتصادی بحالی کے دعووں اور اس حوالے سے بار بار جشن منانے کے عمل کو برقرار رکھنا خاصا مشکل بنا دینا چاہیے۔
2026 کے عالمی بھوک انڈیکس میں پاکستان جنوبی ایشیا میں بدترین پوزیشن پر ہے، جبکہ ایک علیحدہ رپورٹ میں امدادی تنظیم ’ایکشن اگینسٹ ہنگر‘ نے اسے ان 10 ممالک میں شامل کیا ہے جو عالمی غذائی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
تخمینے کے مطابق رواں سال 10.6 ملین یعنی 1 کروڑ 6 لاکھ پاکستانیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔ یہ نتائج ایک ایسی معیشت کی انتہائی تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں جس کے سرکاری اشاریوں میں بہتری آ رہی ہے، لیکن اس کے لاکھوں شہریوں کو مناسب مقدار میں خوراک حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔
بین الاقوامی جائزوں میں پاکستان کا اب جن ممالک کے ساتھ شمار ہونے لگا ہے، یہ صورت حال بذاتِ خود خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔
ایکشن اگینسٹ ہنگر کی رپورٹ میں پاکستان کو سوڈان، یمن، افغانستان، جنوبی سوڈان، شام اور جمہوریہ کانگو سمیت ان ممالک کے ساتھ رکھا گیا ہے جہاں طویل عرصے سے جاری تنازعات، نقل مکانی اور اداروں کی شدید کمزوری نے لوگوں کے ذرائع معاش اور غذائی تحفظ کو تباہ کر دیا ہے۔
پاکستان کو بھی سلامتی، معیشت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن انتہائی سنگین انسانی ہنگامی حالات سے دوچار ممالک میں اس کی شمولیت اس بات کی وضاحت کا تقاضا کرتی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ وسیع زرعی وسائل اور حکومت کے ایک مستحکم نظام کی حامل معیشت اس مقام تک کیسے پہنچ گئی جہاں بھوک ایک بڑے قومی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے؟
عالمی بھوک انڈیکس صورت حال میں بگاڑ کے مزید شواہد فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں 2018 کے بعد سے غذائی قلت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بچوں میں شدید دبلے پن کی شرح بھی بلند سطح کی جانب بڑھ رہی ہے۔ معاشی عدم استحکام، غذائی مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بار بار آنے والے شدید اثرات نے گھرانوں کی قوتِ خرید اور زرعی ذرائع معاش کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ مسئلہ صرف خوراک کی دستیابی تک محدود نہیں ہے۔ جن خاندانوں کی آمدنی ضروری اخراجات کے ساتھ بڑھنے میں ناکام رہتی ہے، ان کے لیے مناسب غذائیت کا حصول تیزی سے ناقابلِ برداشت ہوتا جا سکتا ہے، چاہے بازاروں میں خوراک دستیاب ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت کی معاشی کارکردگی کا سنجیدہ جائزہ لیتے وقت اس فرق کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ان نتائج اور معیشت کے استحکام اور بحالی کے سرکاری بیانیے کے درمیان ایک غیر معمولی تضاد پایا جاتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، مہنگائی کے اشاریوں یا مالیاتی توازن میں بہتری اقتصادی ترقی کی اہم بنیادیں فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن حکومت کو یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ یہ فوائد ان گھرانوں تک کیسے پہنچ رہے ہیں جو غذائی عدم تحفظ، روزگار کے ناکافی مواقع اور قوتِ خرید میں کمی سے نبرد آزما ہیں۔
ان خاندانوں کے لیے معاشی ترقی کے اعداد و شمار کی اہمیت محدود رہ جاتی ہے جنہیں محض زندہ رہنے کے لیے کھانے کم کرنا، پیداواری اثاثے فروخت کرنا یا بچوں کو اسکول سے اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ عالمی حالات بھی بتدریج زیادہ ناموافق ہوتے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے اور یہ اضافہ صارفین تک منتقل کر دیا گیا تو رواں سال دنیا بھر میں تقریباً 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تنازعات، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، قرضوں کا مہنگا حصول اور موسم کے بڑھتے ہوئے شدید واقعات ترقی پذیر معیشتوں پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہے ہیں۔
پاکستان کا سیلاب، خشک سالی اور زرعی سرگرمیوں میں خلل کے خطرات سے دوچار ہونا اسے خاص طور پر کمزور بناتا ہے۔ تاہم، یہ دباؤ فوری ملکی پالیسی اقدامات کی ضرورت کو مزید مضبوط کرتے ہیں، نہ کہ مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال کو نظرانداز کرنے کے لیے کافی جواز فراہم کرتے ہیں۔
حکومت کو اقتصادی پالیسی سازی میں غذائی تحفظ کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے۔ اس کے لیے کمزور اور مستحق گھرانوں کی قوتِ خرید کا تحفظ، سماجی امداد کی فراہمی اور اس کے مستحقین کے تعین کے نظام کو بہتر بنانا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور خوراک کی ترسیل کے پورے نظام میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنا ضروری ہے۔
غذائیت کے پروگراموں، بالخصوص بچوں اور ماؤں کے لیے مختص پروگراموں کو مسلسل مالی وسائل فراہم کیے جانے چاہییں اور ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر ہونے چاہییں۔ وفاقی اور صوبائی حکام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کی پیشگی نشاندہی کرنے اور مقامی قلت کو وسیع انسانی بحران میں تبدیل ہونے سے پہلے اس سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت بھی بہتر بنانا ہوگی۔
اسی قدر اہم بات یہ ہے کہ معاشی ٹیم سے ایسے اشاریوں کی بنیاد پر پیش رفت کی رپورٹ طلب کی جائے جو لوگوں کے حقیقی حالاتِ زندگی کی عکاسی کرتے ہوں۔ بھوک، بچوں میں غذائی قلت، گھرانوں کی حقیقی آمدنی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کو کم از کم اتنی ہی توجہ ملنی چاہیے جتنی ان مالیاتی اعداد و شمار کو دی جاتی ہے جنہیں باقاعدگی سے معاشی بحالی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
پاکستان معاشی ترقی کی بحالی کا جشن منانے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا، جبکہ بین الاقوامی جائزوں میں اسے دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں سے دوچار ممالک کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔
بھوک کا ٹائم بم پہلے ہی زور سے ٹک ٹک کر رہا ہے۔ معیشت کی بہتری کے بارے میں حکومت کے اصرار پر اس وقت تک بہت کم یقین کیا جائے گا جب تک نمایاں طور پر زیادہ پاکستانی مناسب خوراک خریدنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments