اوباما کی ٹرمپ پر کرپشن کرنے، ایران پالیسی اور وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر کڑی تنقید
- اوباما نے ہفتے کو کلیولینڈ اور ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت میں اجتماعات سے خطاب کیا
امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے وسط مدتی انتخابات سے 10 روز قبل انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کرپشن، ایران پالیسی اور وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش کے حوالے سے شدید تنقید کی ہے۔
اوباما نے ہفتے کو کلیولینڈ اور ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت میں اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے 3 نومبر کے انتخابات کو ٹرمپ کی صدارت میں غیر ضروری اقدامات روکنے اور حکومت کو جواب دہ بنانے کا موقع قرار دیا۔
مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کی انتخابی مہم کے دوران اوباما نے کہا کہ انتخابات حکومتی اقدامات پر قابو پانے اور احتساب یقینی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ السید کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز سے ہے۔
اوباما نے ٹرمپ پر سرکاری عہدے سے ذاتی فائدہ اٹھانے اور حکومتی سرپرستی میں بدعنوانی کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرات کے باعث ایران کو تیل کی عالمی ترسیل پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگیا ہے۔
سابق صدر نے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش کو بھی طنز کا نشانہ بنایا۔
اگست میں رائٹرز اور اِپسوس کے سروے کے مطابق 63 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ اور ان کے خاندان نے کرپٹو کرنسی سے نامناسب فائدہ اٹھایا، جبکہ 69 فیصد کے نزدیک ان کی پالیسیوں پر نجی کاروباری مفادات اثر انداز ہوتے ہیں۔




















Comments