پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، عالمی بینک
- عالمی بینک کے مطابق استحکام کی کوششوں اور بروقت پالیسی اقدامات سے حاصل ہونے والے مالیاتی تحفظ نے پاکستان کو بیرونی دباؤ سے نمٹنے میں مدد دی ہے
عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مسلسل اصلاحات اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے معاشی استحکام کے فوائد برقرار رکھے، کیونکہ ملک سرمایہ کاری کے حصول اور پائیدار ترقی کی جانب پیش رفت کے لیے کوشاں ہے۔یہ بات جمعے کو جاری بیان میں کہی گئی۔
اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان (مینا) کے لیے خوشحالی کے شعبے کے ریجنل پریکٹس ڈائریکٹر سندیپ مہاجن کے درمیان ملاقات ہوئی۔
عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے ڈویژن ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اس دوران پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے، معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب منتقلی اور سرمایہ کاری و نجی شعبے کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سندیپ مہاجن نے پاکستان کو معاشی استحکام بحال کرنے پر مبارک باد دی اور علاقائی تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی مؤثر حکمت عملی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کی کوششوں اور بروقت پالیسی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالیاتی تحفظ نے پاکستان کو بیرونی دباؤ سے نمٹنے میں مدد دی۔ عالمی بینک کے نمائندوں نے ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اصلاحات اور ان پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ترجیح معاشی استحکام کو پائیدار بنانا اور اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی معاشی نمو میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو عالمی سرمایہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی حاصل ہوئی ہے، جس میں حال ہی میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا بھی شامل ہے۔ ان بانڈز کی مدت پانچ اور دس سال ہے۔ انہوں نے مستقبل میں کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کی راہ ہموار کرنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس پیش رفت کو آگے بڑھانے، سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کرنے اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ساکھ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے ایک قابلِ اعتماد عبوری لائحۂ عمل کی اہمیت پر بھی گفتگو کی، جس کے ذریعے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے، بیرونی شعبے کی کمزوریوں کا ازالہ ہو اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مبنی ذمہ دارانہ اور پائیدار ترقی کی بنیادیں مضبوط بنائی جا سکیں۔
ملاقات میں بیرونی خطرات سے نمٹنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے مالیاتی نظام اور پالیسیوں کی ساکھ مضبوط بنانے میں عالمی تجربات سے استفادے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
فریقین نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ اقتصادی ترقی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کا انحصار قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول اور پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد پر ہے۔
وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے نمائندوں نے حکومت کے اقتصادی ترقی اور روزگار کے ایجنڈے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جس میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، ضابطہ جاتی ماحول بہتر بنانے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل متحرک کرنے کے مواقع شامل تھے۔
ملاقات میں نجکاری، واضح ضابطہ جاتی نظام اور نجکاری کے بعد مؤثر انتظامات کی اہمیت پر بھی بات ہوئی۔ اس کے علاوہ ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون اور مناسب مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں فریقوں نے پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا۔






















Comments