BR100 Decreased By (-0.34%)
BR30 Decreased By (-0.25%)
KSE100 Decreased By (-0.27%)
KSE30 Decreased By (-0.23%)
BAFL 55.88 Increased By ▲ 0.23 (0.41%)
BIPL 24.48 Increased By ▲ 0.07 (0.29%)
BOP 28.53 Decreased By ▼ -0.25 (-0.87%)
CNERGY 12.88 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.78 Decreased By ▼ -0.13 (-0.82%)
DGKC 179.03 Decreased By ▼ -2.97 (-1.63%)
FABL 91.17 Decreased By ▼ -0.32 (-0.35%)
FCCL 51.30 Decreased By ▼ -0.47 (-0.91%)
FFL 14.06 Increased By ▲ 0.03 (0.21%)
GGL 19.49 Decreased By ▼ -0.21 (-1.07%)
HBL 289.77 Decreased By ▼ -0.65 (-0.22%)
HUBC 192.84 Decreased By ▼ -0.59 (-0.31%)
HUMNL 9.15 Decreased By ▼ -0.14 (-1.51%)
KEL 6.01 Decreased By ▼ -0.08 (-1.31%)
LOTCHEM 24.95 Decreased By ▼ -0.46 (-1.81%)
MLCF 89.23 Decreased By ▼ -0.72 (-0.8%)
OGDC 299.47 Increased By ▲ 0.37 (0.12%)
PAEL 33.62 Decreased By ▼ -0.15 (-0.44%)
PIBTL 13.48 Decreased By ▼ -0.17 (-1.25%)
PIOC 230.13 Decreased By ▼ -1.80 (-0.78%)
PPL 218.85 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
PRL 108.81 Increased By ▲ 1.86 (1.74%)
SNGP 89.72 Decreased By ▼ -0.51 (-0.57%)
SSGC 22.77 Decreased By ▼ -0.14 (-0.61%)
TELE 7.04 Decreased By ▼ -0.07 (-0.98%)
TPLP 11.53 Decreased By ▼ -0.25 (-2.12%)
TRG 57.62 Increased By ▲ 1.25 (2.22%)
UNITY 8.11 Increased By ▲ 0.18 (2.27%)
WTL 0.95 Decreased By ▼ -0.01 (-1.04%)
دنیا

حملوں کے بعد سعودی عرب نے اپنی ’ڈیووس اِن دی ڈیزرٹ‘ کانفرنس ملتوی کر دی

  • دسویں بار منعقد ہونے والی یہ کانفرنس دنیا کے بعض سرکردہ مالیاتی شخصیات کے لیے ایک لازمی شرکت کا ایونٹ بن چکی ہے
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب نے اپنی اہم ترین سرمایہ کاری کانفرنس آئندہ سال تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منتظمین نے پیر کے روز ایک بیان میں اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران مہلک حملوں نے مملکت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازعے کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

منتظمین کے مطابق، فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کانفرنس 26 سے 29 اکتوبر تک منعقد ہونا تھی، تاہم اب یہ 2027 میں ہوگی۔ کانفرنس کی نئی تاریخ کا اعلان ’’بہت جلد‘‘ کیا جائے گا۔ اس سے قبل رائٹرز نے پیر کے روز اطلاع دی تھی کہ کانفرنس میں بالمشافہ شرکت کا پروگرام منسوخ کردیا گیا ہے اور منتظمین اسے ملتوی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

دسویں بار منعقد ہونے والی یہ کانفرنس دنیا کے بعض سرکردہ مالیاتی ماہرین اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم ایونٹ بن چکی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی مناسبت سے اسے غیر رسمی طور پر ’’ڈیزرٹ میں ڈیوس‘‘ کہا جاتا ہے۔ حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی اس سالانہ کانفرنس میں سعودی عرب کے بلند پرواز سرمایہ کاری منصوبوں کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے، تاکہ معیشت کو تیل اور گیس پر انحصار سے نکال کر سیاحت، کھیلوں اور ٹیکنالوجی کی جانب منتقل کرنے کے لیے درکار اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی جاسکے۔

رواں سال کی کانفرنس میں گولڈمین ساکس کے چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین ڈیوڈ سولومن، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے چیف ایگزیکٹو بل ونٹرز اور سٹی کی چیف ایگزیکٹو جین فریزر سمیت اہم شخصیات کی شرکت متوقع تھی۔ ان کے نام کانفرنس کے مجوزہ پروگرام میں شامل تھے۔

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے رواں سال خلیجی خطے میں تقریبات کے مصروف شیڈول کو متاثر کیا ہے۔ سال کے ابتدائی مہینوں میں متحدہ عرب امارات اور قطر میں متعدد کانفرنسیں منسوخ، ملتوی یا ان کے انعقاد کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی گئی، کیونکہ ان ممالک کو حملوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا، جبکہ سعودی عرب پر نسبتاً کم حملے ہوئے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگ کا سامنا ہے۔ حوثیوں نے ملک بھر میں فوجی، توانائی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کا صدر دفتر اور ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی شامل ہیں۔ رواں ماہ ہونے والے حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کانفرنس اپنے شرکا کی توقعات کے مطابق ’’وسیع پیمانے، غیر معمولی معیار اور ناقابلِ فراموش اثرات‘‘ کی حامل ہو۔

رائٹرز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ کانفرنس کے منتظمین ایک ایسے متبادل انتظام پر غور کر رہے تھے جس کے تحت کانفرنس میں بالمشافہ شرکت کے ساتھ اعلیٰ عہدیداروں کو آن لائن شرکت کی سہولت بھی دی جاتی۔ دوسری جانب، سیمفور نے پیر کے روز رپورٹ کیا کہ بڑے بینکوں اور نجی سرمایہ کاری کی کمپنیوں نے سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر یاسر الرمیان کو نجی طور پر کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چیف ایگزیکٹوز پر چار روزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دباؤ بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

Comments

200 حروف