فائیو جی اور اے آئی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ، ٹیلی کام کمپنیوں کا صنعتی بجلی ٹیرف دینے کا مطالبہ
- 2018 کے بعد ٹیلی کام مراکز پر لاگو تجارتی بجلی نرخوں میں تقریباً 197 فیصد جبکہ ایندھن کے اخراجات میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے
پاکستان کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ لائسنس یافتہ ٹیلی مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو صنعتی بجلی ٹیرف فراہم کیا جائے، کیونکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات 5 جی نیٹ ورکس، فائبر کنیکٹیویٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ہم آہنگ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کو مشترکہ خط میں جاز، زونگ، یوفون، ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے سربراہان نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں اور قوانین میں ٹیلی کام شعبے کو صنعت تسلیم کیے جانے کے باوجود اسے صنعتی بجلی نرخوں کی سہولت نہیں دی جارہی۔
کمپنیوں کے مطابق آئندہ تین سال میں 5 جی نیٹ ورک کی تنصیب اور فائبر نیٹ ورک کی توسیع کے لیے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اے آئی سے ہم آہنگ ڈیٹا سینٹرز بھی قائم کیے جارہے ہیں۔
خط میں بتایا گیا کہ 2018 کے بعد ٹیلی کام مراکز پر لاگو تجارتی بجلی نرخوں میں تقریباً 197 فیصد جبکہ ایندھن کے اخراجات میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس کے برعکس فی صارف اوسط آمدن تقریباً 22 فیصد کم ہوئی ہے۔ کمپنیوں نے مزید 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ بھی اجاگر کیا۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے موبائل سیلولر پالیسی 2004، فنانس ایکٹ 2021 اور متعلقہ حکومتی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے صنعتی ٹیرف کی فراہمی کا جواز پیش کیا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر متعلقہ اداروں کی مشترکہ ٹاسک فورس کا اجلاس 4 اگست 2026 کو بھی ہوچکا ہے۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صنعتی نرخوں سے آپریٹنگ اخراجات کم ہوں گے اور بچت 5 جی، دیہی علاقوں میں رابطوں اور فائبر نیٹ ورک کی توسیع پر خرچ کی جاسکے گی۔ ان کے تخمینے کے مطابق اس اقدام سے قومی بجلی گرڈ کا استعمال 15 سے 20 فیصد بڑھ سکتا ہے، تاہم ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
کمپنیوں نے حکومت سے صنعتی ٹیرف کے نفاذ کے لیے پالیسی ہدایت جاری کرنے یا ڈیجیٹل و ٹیلی کام بنیادی ڈھانچے کے لیے بجلی صارفین کی الگ کیٹیگری بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments